Tafseer-e-Saadi - Al-Mulk : 12
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
اور جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بدبخت فاجروں کا ذکر کیا تو سعادت مند نیک لوگوں کا وصف بھی بیان کیا چناچہ فرمایا (ان الذین یخشون ربھم بالغیب) بیشک وہ لوگ جو اپنے تمام احوال میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں حتی کہ وہ اس حالت میں بھی اللہ سے ڈرتے ہیں جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پس وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں نہ اس کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی کرتے ہیں جو ان کو دیا گیا ہے (لھم مغفرۃ) ان کے لیے گناہوں کی بخشش ہے جب اللہ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا تو اس نے ان کو ان گناہوں کے شر سے اور جہنم کے عذاب سے بچالیا (و) ، اور، ان کے لیے (اجر کبیر) بڑا اجر ہے جو اللہ نے ان کے لیے جنت میں تیار کررکھا ہے یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، بہت بڑی بادشاہی، پیہم لذتیں، محلات، بالاخانے، خوبصورت حوریں، خدمت گار اور خدمت کرنے والے لڑکے۔ اس سے بھی عظیم تر اور بڑا اجر رحمن کی رضا ہے جو جنت کے رہنے والوں کو حاصل ہوگی۔
Top