Mazhar-ul-Quran - Al-Mulk : 12
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
بیشک1 جو لوگ اپنے پروردگار سے بےدیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔
(ف 1) اوپر دوزخیوں کے گروہ کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں جنتی گروہ کی نشانی کا ذکر فرمایا ہے کہ اگرچہ شیطان جس طرح بد لوگوں کو بہکاتا ہے اسی طرح نیک لوگوں کو بھی بہکاتا ہے اور جس طرح بدلوگوں نے دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا، اسی طرح نیک لوگوں نے بھی دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا، لیکن وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کا پورا یقین اپنے دل میں رکھتے ہیں اور بغیر آنکھوں سے دیکھنے کے ان آنکھوں سے غائب چیزوں کا خوف ان کے دل میں اس قدر ہے کہ گویا آج عذاب آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس واسطے وہ لوگ شیطان کے بہکانے میں کم آتے ہیں اور بدکام کا چھوڑنا، نیک کام کا کرنا، جو کچھ کرتے ہیں دنیا کے دکھلاوے کی نیت سے نہیں کرتے، بلکہ محض ثواب آخرت کی نیت سے کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان کی نیت پوری کرے گا اور عقبی میں بہت بڑا ثواب ان کو عنایت فرمائے گا۔
Top