Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 12
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
بلاشبہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے بڑی مغفرت ہے اور اجر کریم ہے یہ تین آیات ہیں پہلی آیت میں اہل ایمان کا اور اعمال صالحہ کا اور گناہوں سے بچنے کا فائدہ بتایا ان کے لیے مغفرت ہے اور ان کے لیے بڑا اجر بھی ہے جس طرح یعنی کہ کافروں کے لیے عذاب سعیر ہے اسی طرح اہل ایمان کے لیے اجر کبیر ہے جو بھی کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا اسے اس کا اجر وہاں کی نعمتوں کی صورت میں ملے گا، دوسری آیت میں فرمایا کہ تم لوگ آہستہ سے بات کرو یا زور کی آواز سے اللہ تعالیٰ دونوں طرح کی آواز کو سنتا ہے اور اگر کوئی بات بالکل ہی بےآواز ہو مثلاً دل میں کوئی بات طے کرلی ہو یا کسی بھی گمراہی کا یقین کرلیا ہو اللہ تعالیٰ کو اس سب کی خبر ہے کیونکہ وہ سینہ کی باتوں کو جانتا ہے۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ مشرکین نے آپس میں ایک دوسرے سے یوں کہا کہ چپکے چپکے باتیں کرو ایسا نہ ہو کہ محمد ﷺ کا معبود سن لے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔
Top