Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 12
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
(اس کے برعکس) جو لوگ ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے ان کے لئے یقینا بڑی بخشش بھی ہے اور ایک بہت بڑا اجر بھی
16 خوف و خشیت خداوندی ذریعہ نجات و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرنے والوں کیلئے بڑی بخشش بھی ہے اور اجر کبیر بھی یعنی ان کے ان گناہوں کی بخشش جو بشری تقاضوں کی بناء پر ان سے سرزد ہوگئے ‘ والعیاذ باللہ کہ ان کو معاف کردیا جائے گا سو منکرین کے انجام کے بیان کے بعد اب یہاں سے ان لوگوں کا صلہ بیان فرمایا جا رہا ہے ‘ جو اپنی زنڈگیوں میں بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہے ‘ کہ ان کیلئے ایک عظیم الشان بخشش اور رحمت ہے ‘ سو اسی سے ان خوش نصیبوں کا صاحب عقل و بصیرت ہونا بھی واضح ہوجاتا ہے ‘ کہ انہوں نے اپنے کان ‘ آنکھ بند کرکے اور اندھے بہرے بن کر زندگی نہیں گزاری ‘ اور نہ ہی وہ اس بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ سامنے آجائے گا تب مانیں گے ‘ نہیں بلکہ انہوں نے کائنات کی نشانیوں کو دیکھ کر اور اپنی عقلوں سے کام لے کر اور دعاۃ حق کی باتوں کو مان کر حق قبول کرلیا اور فائز المرام ہوگئے اور بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ سو بالغیب کا یہ لفظ بڑا عظیم الشان اور نہایت معنی خیز لفظ ہے اور یہ اس لئے کہ اس دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر غیب سے تعلق رکھنے والے ان حقائق کو تسلیم کرے اور ان پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی ہے اور ان حقائق کو اسی طرح مانے جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے بتایا۔ سو ایسوں کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے عظیم الشان مغفرت و بخشش بھی ہے اور ایک بہت بڑا اجر بھی۔ اتنا بڑا اجر کہ اس کی عظمت و بڑائی کا اندازہ کرنا بھی اس دنیا میں کسی کے بس میں نہیں ‘ کہ ان کیلئے ان کے رب کریم نے وہاں پر وہ کچھ تیار کر رکھا ہوگا ‘ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا ‘ اور نہ ہی کسی بشر کے دل پر اس کا گزر ہی ہوا ہوگا ‘ اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف انہوں نے اپنی عقل و فکر کو صحیح طور پر ساتعمال کرکے اور دعاۃ حق و ہدایت کی دعوت حق کو قبول کرکے نور ہدایت سے سرفرازی حاصل کرلی ‘ تو اس بناء پر وہ اس بات کے مستحق ہوگئے کہ ان کا رب ان کو اپنے فضل عظیم اور اجر کبیر سے نوازے ‘ سو جس شخص نے اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر دعوت حق کو قبول کرلیا ‘ وہ امتحان میں کامیاب ہو کر فائز المرام ہوگیا اور جنہوں نے اس کے برعکس دعوت حق و ہدایت کو سننے اور ماننے سے انکار کیا اور وہ اسی بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے آئیگا تب وہ مانیں گے۔ تو وہ محروم اور ناکام رہے خواہ دنیاوی اعتبار سے انہوں نے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلی ہو اور وہ اپنے آپ کو کیا کچھ سمجھتے اور مانتے ہوں اور دنیا میں ان کا کتنا ہی غلغلہ اور دبدبہ کیوں نہ ہو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Top