Anwar-ul-Bayan - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے اور آنکھوں والے تھے
(38:45) واذکر عبدنا ۔۔ الخ اس کا عطف واذکر عبد نا ایوب پر ہے۔ اور یاد کر ہمارے بندوں کو۔۔ ابراہیم واسحق و یعقوب : عبدنا کا عطف بیان ہے یا بدل ۔ اولی الایدی والابصار۔ ہاتھوں والے اور آنکھوں والے۔ الایدی القوۃ سے مجاز مرسل ہے۔ سبب کو ذکر کرکے مسبب مراد لیا گیا ہے (اکثر اعمال ہاتھوں ہی سے کئے جاتے ہیں اور مضبوط ہاتھ ہی قوت کا سبب بنتے ہیں) ابصار جمع بصر کی ہے بمعنی آنکھ لیکن یہاں مراد بصیرت لی گئی ہے کیونکہ آنکھیں ہی خدا شناسی کا بہترین ذریعہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ تینوں بندے اللہ کے خاص بندے اطاعت خداوندی میں مستعد اور طاقت ود اور دین و معرفت الٰہیہ میں صاحب بصیرت تھے یعنی عملی اور علمی قوتوں کے مالک تھے۔ اور اس کے برعکس جاہلوں کو اپاہج اور اندھا کہیں گے کہ اطاعت خداوندی میں لولے اور حقیقت کو دیکھنے میں کورے۔
Top