Baseerat-e-Quran - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
( اے نبی ﷺ آپ ہمارے بندے ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جو قوت والے اور بصارت رکھنے والے تھے۔
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی) تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی جانے والی سزاؤں کا ذکر کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر خیر کیجئے جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے یعنی جنہیں اللہ تعالیٰ نے جسمانی قوت و طاقت اور فہم و فراست اور ذہنی بصیرت کی دولت سے مالا مال کیا تھا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کے لوگ تھے۔ اللہ نے ان کو جو صلاحتیں اور عظمتیں عطاء کی تھیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو دنیا کی حقیر اور عارضی لذتوں کی طرف مائل تھے نہ وہ دنیا کی راحتوں کو زیادہ اہمیت دیتے تھے بلکہ ان کا ہر عمل ، کوشش اور جدوجہد اللہ کی رضا و خوشنودی اور ان کی ساری بھاگ دوڑ صرف آخرت کے اس گھر کی طرف تھی جس کی ہر نعمت ہمیشہ کے لئے ہوگی ۔ فرمایا کہ اسی طرح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت الیسع (علیہ السلام) اور ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جو سب کے سب اللہ کے منتخب بندے تھے جو ہر بات کو حقیقی نظر سے دیکھ کر فیصلے کیا کرتے تھے جو بالکل صحیح تھے۔ فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والے ایسے لوگوں کے لئے جنت کو بہترین ٹھکانہ بنایا گیا ہے ۔ کہ ایسی راحتوں سے بھر پور جنتیں ہوں گی جن کے دروازے ان کے لئے ہمیشہ کھلے رہیں گے ۔ وہ تکیہ لگائے بہترین مسہریوں پر بیٹھے ہوئے مشروبات اور طرح طرح کے مزیدار میوے اور پھلوں سے دل کو بہلا رہے ہوں گے ان کے چاروں طرف شرم حیاء کی پیکر نیچی نگاہیں رکھنے والی ہم عمر نہایت حسین و جمیل حوریں ہوں گی ۔ اس حساب والے دن ان کو ہر وہ چیز دی جائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ نعمتیں دنیا کی وقتی اور عارضی نعمتیں نہیں ہوگی جن کے ختم ہوجانے کا ڈر اور خوف لگا رہتا ہے بلکہ جو چیز بھی دی جائے گی وہ ہمیشہ کے لئے ہوگی جس میں کبھی کسی طرح کی کمی نہیں آئے گی ۔ نہ ان کو وہاں کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جنہوں نے کفر و شرک اور گناہوں میں زندگی گزاری ہوگی ، جنہوں نے سر کشی ، ضد اور ہٹ دھرمی کرتے ہوئے انبیاء کرام کی تعلیمات کو جھٹلایا ہوگا ان کو جہنم جیسی بد ترین جگہ کی طرف دھکیل دیا جائے گا جس میں کھولتا ہوا گرم پانی اور لہو پیپ ان کی غذا ہوگی بلکہ اس جیسی بہت سے عذاب کی شکلیں ہوں گی جن میں انہیں جھونک دیا جائے گا ۔ جب یہ اہل جہنم دیکھیں گے کہ کچھ لوگوں کی جماعتیں جہنم کی طرف آرہی ہیں تو وہ ان کو پہچان کر کہیں گے کہ یہ تو یہاں بھی پہنچ گئے۔ اور وہ اوپر تلے گھستے ہی چلے آئیں گے۔ وہ آنے والوں کا استقبال کرنے کے بجائے ان پر لعنتیں بھیجتے ہوئے کہیں گے کہ تمہارا ستیا ناس ہوجائے تم نے دنیا میں ہمیں گمراہ کیا اور ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ آج ہمیں جو بھی عذاب دیا جا رہا ہے اس میں مبتلا کرنے والے تم لوگ ہو جنہوں نے ہمیں جہنم جیسی بد ترین جگہ تک پہنچا دیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے الٰہی ! یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں غلط راستے پر ڈال دیا تھا ان کو جہنم کی دوگنی سزا دیجئے۔ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر فرمایا گیا ہے کہ جب وہ دوگنی سزا کا مطالبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جو لوگ راستے سے بھٹک گئے ہیں اور جنہوں نے بھٹکایا تھا دونوں کو برابر سزا ملے گی۔ اسی دوران انہیں ان اہل ایمان کا خیال آجائے گا جنہیں وہ دنیا میں ان کے ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے گھٹیا اور حقیر شمار کر کے دن رات ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کہیں گے کہ وہ کہاں ہیں ؟ بعد میں انہیں معلوم ہوگا کہ وہ تو جنت کی ابدی راحتوں میں مگن اور خوش ہیں اور اللہ نے ان کو ان کے نیک اعمال کا اجر عظیم عطاء فرمادیا ہے۔ اس طرح وہ کفار حسرتوں کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑتے اور جھگڑتے رہیں گے۔ فرمایا کہ ان دونوں کافر گروہوں کا آپس میں لڑنا بر حق ہے اور ایسا ہی ہوگا اور اہل جنت ابدی راحتوں میں ہوں گے۔
Top