Mafhoom-ul-Quran - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور ہمارے بندے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے اور صاحب نظر تھے
اللہ کے کچھ اور مقبول بندے اور جنت کے مزے تشریح : ان تمام نبیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ بار بار کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں خوب پڑھیں اور ان کی زندگیوں سے اچھے اچھے سبق سیکھیں ان کے بارے میں سورة الانعام اور انبیاء میں وضاحت سے لکھا جا چکا ہے یہاں مختصراً کہا گیا ہے کہ یہ لوگ جو بھی کرتے ان کو ہر وقت یہ یاد رہتا تھا کہ یہ دنیا صرف مسافر خانہ ہے امتحان گاہ ہے۔ اس لیے ہر وقت برائی سے بچنے کی اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اللہ کو ان کی ہر ادا پسند تھی اسی لیے ان کو دنیا میں بھی نعمتیں عطا کیں نبوت جیسا بہترین اعزازی رتبہ عطا کیا اور پھر آخرت کے تو کیا ہی کہنے اوپر والی آیات میں جنت اور جنتی لوگوں کا جو حال بتایا گیا ہے وہ پڑھ کر کون ایسا انسان ہے جو اللہ کی راہ کو اختیار نہ کرے گا۔ زندگی بڑی تیزی سے گزر رہی ہے صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے۔ عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے۔ تو کیوں نہ اس زندگی کے ایک ایک لمحے کو ایک ایک قدم کو پاکیزہ اور مقدس بنا لیا جائے یہ زندگی تو تھوڑی سی ہے پھر ختم ہوجائے گی اور دوسری زندگی شروع ہوجائے گی جو کبھی ختم نہ ہوگی یہ بات اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآن پاک میں ہمیں بڑی وضاحت سے بتا دی ہے اور اس سورت میں بھی اللہ نے یقین دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا “۔ یہ اسی رزق کی بات ہے جس کا اس سورت کی آیت 49 سے 55 تک ذکر کیا گیا ہے۔ اور پھر ساتھ ہی سرکشوں کا بھی ذکر کردیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
Top