Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے اور آنکھوں والے تھے
45۔ 47۔ اوپر ایوب (علیہ السلام) کا قصہ اس لئے فرمایا تھا کہ اگر اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے ساتھ مسلمان مشرکین مکہ کی ایذا دہی پر صبر کریں گے تو ان کا انجام بھی اچھا ہوگا۔ اسی مطلب کے لئے اب ابراہیم۔ ‘ اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کا نام یاد دلایا کہ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر لوگوں کی ہدایت اور عقبے کی نصیحت کے لئے چنا تھا۔ انہوں نے بھی دنیا میں بڑی بڑی مصیبتیں جھیلیں اور صبر کیا۔ اے رسول اللہ کے تم اور تمہارے ساتھ کے مسلمان صبر سے کام لیویں گے تو وقت مقررہ آنے پر ان مشرکوں کی ساری سرکشی خاک مل جاوے گی۔ اور جس چنی ہوئی بات کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور نسل ابراہیمی کو چھانٹا ہے وہ بات بھی اللہ کی وحدانیت کا پھیلانا اور شرک کا مٹانا ہے جس کا ظہور مکہ اور تمام جزیرہ عرب میں اللہ تعالیٰ کے ارادہ ازلی کے موافق جلد ہوجاوے گا اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے مشرکین مکہ جن بتوں کی حمایت میں اللہ کے رسول اور ان کے ساتھ کے مسلمانوں کو طرح طرح سے ایذا دیتے تھے آخر فتح کے وقت اللہ کے رسول نے لکڑیاں مار مار کر ان بتوں کو گرا دیا۔ اور کسی مشرک کو اللہ کے رسول کا ہاتھ پکڑنے کی جرأت نہ ہوئی۔ فتح مکہ کے وقت کا یہ قصہ صحیح بخاری 2 ؎ کی عبد ؓ اللہ بن مسعود اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایتوں کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکا ہے یہی روایتیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں کیونکہ آیتوں میں ابراہیم۔ ‘ اسحق۔ ‘ اور یعقوب (علیہ السلام) کا نام لیکر جس انجام کو اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا تھا۔ اس انجام کا ظہور ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ سے گزر چکی جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ کی وحدانیت کا پھیلانا سب انبیا کے دین میں ہمیشہ سے رہا ہے۔ ہر زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے نماز روزہ کے احکام شریعت میں بدلتے رہتے ہیں۔ ابراہیم۔ ‘ اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ توحید کو چنی ہوئی بات جس کو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس بات کی نصیحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور نسل ابراہیمی کو چھانٹا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پچھلے سب انبیا کی شریعتوں میں سے چنی ہوئی ایک بات ہے۔ ان آیتوں میں مشرکین مکہ کو ایک یہ تنبیہ بھی ہے۔ کہ یہ لوگ بنی اسماعیل میں ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں لیکن ابراہیم (علیہ السلام) اور نسل ابراہیمی کو جس چنی ہوئی بات کے لئے اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا اس کے مٹانے کے یہ لوگ درپے ہیں۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) دونوں کا طریقہ ان لوگوں کی بت پرستی کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہے۔ اور عمرو بن لحی سے پہلے اس بت پرستی کے طریقہ کا نام و نشان تک مکہ میں نہیں تھا۔ یہ عمرو بن لحی وہی شخص ہے جس نے پہلے پہل ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی ہے اس عمرو بن لحی کا پورا قصہ ایک جگہ گزر چکا 2 ؎ ہے اولی الا ید والابصار اس کا مطلب عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں میں تھے اس لئے ان کے ہاتھ پیروں کی عبادت ان کے دلوں کا نور ایمانی سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق تھا۔ (2 ؎ صحیح بخاری غزوۃ الفتح ص 614 ج 2 و صحح 5 مسلم باب فتح مکہ ص 103 ج 2) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد 2 ص 103۔ ) (2 ؎ تفسیرابن کثیر ص 191 ج 3 )
Top