Madarik-ut-Tanzil - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے اور آنکھوں والے تھے
آخرت سے غافل بےبصیرت ہے : 45: وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ (اور ہمارے بندوں کا ذکر کرو) قراءت : عبدنا مکی نے پڑھا ہے۔ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ (ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا ) فائدہ : جنہوں نے جمع پڑھا انہوں نے ابراہیم اور مابعد کو عبادنا کا عطف بیان قرار دیا اور جنہوں نے واحد پڑھا انہوں نے صرف ابراہیم کو عطف بیان مان کر پھر ان کی اولاد کو عبدنا پر عطف بنا لیا۔ وجہ : اکثر اعمال کی انجام دہی ہاتھوں سے ہوتی ہے تو ان کو تغلیباً ذکر کردیا۔ ہر عمل کے متعلق کہا جاتا ہے ھذا مماعملت ایدیہم خواہ ایسا کام ہو جس میں براہ راست ہاتھ کا دخل نہ ہو۔ یا کام کرنے والے مجذوم ہوں کہ ان کے بالکل ہاتھ نہ ہوں۔ اور اس ارشاد کا یہی مطلب ہے۔ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ (یعنی وہ اعمال و فکروالے تھے) بےبصیرت : گویا جو لوگ آخرت کے اعمال اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور دینی فکر سے خالی ہیں وہ اپاہج لوگ ہیں جو کہ اپنے اعضاء سے کام کرنے سے عاجز ہوتے ہیں اور مسلوب العقل ہیں جن میں بصیرت کا نشان نہیں یا اس میں ان لوگوں پر تعریض کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنے والے نہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت حاصل کرنے والے ہیں اور مجاہدہ اور غور و فکر چھوڑنے پر ان کو توبیخ کی گئی حالانکہ ان دونوں باتوں پر قدرت حاصل تھی۔
Top