بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Al-Quran-al-Kareem - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
صۤ۔ اس نصیحت والے قرآن کی قسم !
صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ : ”صۗ“ حروف مقطعات میں سے ہے، اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ :”الْقُرْاٰنِ“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس قرآن“ کیا ہے۔ ”الذِّكْرِ“ کا معنی عزّ و شرف بھی ہوسکتا ہے، نصیحت بھی اور اللہ تعالیٰ کا اور ان تمام چیزوں کا ذکر بھی جن کی انسان کو نجات کے لیے ضرورت ہے۔ یہاں تینوں معانی بیک وقت مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ قرآن کمال عزّو شرف والا بھی ہے، نصیحت والا بھی ہے اور اس میں ان تمام چیزوں کا ذکر بھی ہے جن کی ضرورت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (10) : (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ) کی تفسیر۔ ”اس نصیحت والے قرآن کی قسم“ اس کا جواب قسم یہاں ذکر نہیں ہوا۔ اگلے جملے ”بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا“ سے نئی بات شروع ہوگئی ہے، جس سے قسم کا جواب سمجھ میں آ رہا ہے۔
Top