Al-Quran-al-Kareem - Saad : 33
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
رُدُّوْهَا : پھیر لاؤ انہیں عَلَيَّ ۭ : میرے سامنے فَطَفِقَ : پھر شروع کیا مَسْحًۢا : ہاتھ پھیرنا۔ صاف کرنا بِالسُّوْقِ : پنڈلیوں پر وَالْاَعْنَاقِ : اور گردنوں
انھیں میرے پاس واپس لاؤ، پھر وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
رُدُّوْهَا عَلَيَّ ۭ فَطَفِقَ مَسْحًۢا : تو انھوں نے حکم دیا کہ انھیں میرے پاس واپس لاؤ۔ جب وہ واپس لائے گئے تو سلیمان ؑ محبت کے ساتھ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ گھوڑوں کی دوڑ لگوانا اور ان کے جسم پر محبت سے ہاتھ پھیرنا دونوں کام جہاد کا حصہ اور باعث اجر و ثواب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کے دونوں عمل ان کے ”نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ“ ہونے کی مثال کے طور پر ذکر فرمائے ہیں۔ ہمارے نبی ﷺ بھی گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ کروایا کرتے تھے، عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں : (سَابَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ بَیْنَ الْخَیْلِ الَّتِيْ قَدْ أُضْمِرَتْ فَأَرْسَلَہَا مِنَ الْحَفْیَاءِ ، وَکَانَ أَمَدُہَا ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ فَقُلْتُ لِمُوْسٰی فَکَمْ کَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ ؟ قَالَ سِتَّۃُ أَمْیَالٍ أَوْ سَبْعَۃٌ وَ سَابَقَ بَیْنَ الْخَیْلِ الَّتِيْ لَمْ تُضَمَّرْ ، فَأَرْسَلَہَا مِنْ ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ ، وَکَانَ أَمَدُہَا مَسْجِدَ بَنِيْ زُرَیْقٍ ، قُلْتُ فَکَمْ بَیْنَ ذٰلِکَ ؟ قَالَ مِیْلٌ أَوْ نَحْوُہُ وَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ سَابَقَ فِیْہَا) [ بخاري، الجہاد، باب غایۃ السبق للخیل المضمرۃ : 2870 ] ”رسول اللہ ﷺ نے تضمیرشدہ گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کروایا۔ چناچہ انھیں ”حفیاء“ سے دوڑایا اور ان کی آخری جگہ ”ثنیۃ الوداع“ تھی۔ (ابواسحاق کہتے ہیں کہ) میں نے موسیٰ بن عقبہ سے پوچھا : ”ان کے درمیان کتنا فاصلہ تھا ؟“ تو انھوں نے فرمایا : ”ان دونوں کے درمیان چھ یا سات میل کا فاصلہ تھا۔“ اور ان گھوڑوں کو جو تضمیرشدہ نہیں تھے ثنیۃ الوداع سے دوڑایا اور ان کی آخری جگہ مسجد بنی زریق تھی۔ میں نے پوچھا : ”ان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟“ تو موسیٰ بن عقبہ نے فرمایا : ”ان دونوں کے درمیان ایک میل یا اس کے قریب فاصلہ ہے۔“ اور ابن عمر ؓ بھی اس مقابلے میں شامل تھے۔“ (تضمیر کا لفظی معنی لاغر کرنا ہے۔ یہ گھوڑوں کی خاص طریقے سے تیاری کو کہتے ہیں، جس میں پہلے انھیں خوب کھلا پلا کر موٹا کیا جاتا ہے، پھر آہستہ آہستہ ان کی خوراک کم کرکے کچھ وقت کے لیے بند کردی جاتی ہے۔ اس کے دوران ان کے جسم کی مالش اور تیاری کی جاتی ہے، جس سے وہ بھوک پیاس برداشت کرنے اور زیادہ دیر تک دوڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں) اور آپ ﷺ گھوڑوں کی پیشانیوں کے بالوں پر محبت سے ہاتھ بھی پھیرا کرتے تھے، چناچہ جریر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں : (رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ یَلْوِيْ نَاصِیَۃَ فَرَسٍ بِإِصْبَعِہِ وَ ہُوَ یَقُوْلُ الْخَیْلُ مَعْقُوْدٌ بِنَوَاصِیْہَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ : الْأَجْرُ وَ الْغَنِیْمَۃُ) [ مسلم، الإمارۃ، باب فضیلۃ الخیل و أن الخیر معقود بنواصیھا : 1872 ] ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ایک گھوڑے کی پیشانی کے بالوں کو اپنی انگلی کے ساتھ مروڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے : ”گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ قیامت کے دن تک خیر باندھ دی گئی ہے، یعنی اجر اور غنیمت۔“ یہ ہے وہ تفسیر جس پر دل کو اطمینان ہوتا ہے، کیونکہ اس میں کوئی تکلّف نہیں۔ امام طبری، رازی، ابن حزم اور بہت سے ائمہ نے اسے ہی صحیح قرار دیا ہے، ترجمان القرآن ابن عباس ؓ نے بھی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ چناچہ طبری نے علی ابن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ آیت : (فَطَفِقَ مَسْحًۢا بالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ) کے متعلق ان کا قول نقل فرمایا ہے : ”یَقُوْلُ جَعَلَ یَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَیْلِ وَ عَرَاقِبَھَا حُبًّا لَھَا“ یعنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ سلیمان ؑ ان کی گردنوں کے بالوں پر اور ان کی ٹانگوں کے پچھلے حصوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنے لگے۔ تنبیہ : بہت سے مفسرین نے ان آیات کی تفسیر ایک اور طریقے سے کی ہے۔ ان کے مطابق ترجمہ و تفسیر یہ ہے کہ سلیمان ؑ کے سامنے پچھلے پہر اصیل تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے۔ (یہاں عبارت محذوف ہے کہ انھوں نے ان کی دوڑ کا مقابلہ کروایا، جس کی وجہ سے ان کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو) انھوں نے کہا، میں نے مال کی محبت کو اپنے رب کے ذکر پر ترجیح دی، یہاں تک سورج پردے میں چھپ گیا۔ (تو انھوں نے حکم دیا) انھیں میرے پاس واپس لاؤ، تو وہ ان کی پنڈلیاں اور گردنیں تلوار سے کاٹنے لگے۔ مگر اس تفسیر کی صورت میں کئی ایسی چیزیں محذوف ماننا پڑتی ہیں جن کی کوئی دلیل نہیں، مثلاً یہ کہ ان کی عصر کی نماز فوت ہوگئی، یا سورج پردے میں چھپ گیا، پھر تلوار کا اور اس کے ساتھ پنڈلیاں اور گردنیں کاٹنے کا یہاں نہ کوئی ذکر ہے نہ قرینہ ہے اور نہ ہی ایک پیغمبر سے جہادی گھوڑوں کو اس طرح کاٹنے کی توقع ہوسکتی ہے جن کا کوئی جرم نہ تھا۔ نہ ہی سلیمان ؑ کی ان سے محبت کا باعث مال کی محبت تھا، بلکہ اس محبت کا اصل باعث جہاد سے محبت تھا اور نہ ہی یہ تفسیر رسول اللہ ﷺ یا کسی صحابی سے منقول ہے، جب کہ پہلی تفسیر صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے مروی ہے، جیسا کہ اوپر گزرا ہے۔ مفسر رازی نے اور خصوصاً ابن حزم نے گھوڑوں کو کاٹنے والی تفسیر کی سخت تردید کی ہے۔
Top