Tafseer-e-Usmani - Saad : 33
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
رُدُّوْهَا : پھیر لاؤ انہیں عَلَيَّ ۭ : میرے سامنے فَطَفِقَ : پھر شروع کیا مَسْحًۢا : ہاتھ پھیرنا۔ صاف کرنا بِالسُّوْقِ : پنڈلیوں پر وَالْاَعْنَاقِ : اور گردنوں
پھیر لاؤ ان کو میرے پاس پھر لگا جھاڑنے ان کی پنڈلیاں اور گردنیں5
5  یعنی نہایت اصیل، شائستہ اور تیز و سبک رفتار گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی۔ حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ شاید اس شغل میں عصر کے وقت کا وظیفہ بھی نہ پڑھ سکے ہوں۔ اس پر کہنے لگے کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر ایک طرف ذکر اللہ (یاد خدا) سے بظاہر علیحدگی رہی تو دوسری جانب جہاد کے گھوڑوں کی محبت اور دیکھ بھال بھی اسی کی یاد سے وابستہ ہے۔ جب جہاد کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے تو اس کے معدات و مبادی کا تفقد کیسے ذکر اللہ کے تحت میں داخل نہ ہوگا۔ آخر اللہ تعالیٰ جہاد اور آخرت اور آلات جہاد کے مہیا کرنے کی ترغیب نہ دیتا تو اس مال نیک سے ہم اس قدر محبت کیوں کرتے۔ اسی جذبہ جہاد کے جوش و افراط میں حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو پھر واپس لاؤ۔ چناچہ واپس لائے گئے اور حضرت سلیمان غایت محبت و اکرام سے ان کی گردنیں اور پنڈلیاں پونچھنے اور صاف کرنے لگے۔ آیت کی یہ تقریر بعض مفسرین کی ہے۔ اور لفظ " حب الخیر " سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ گویا خیر کا لفظ اسی مضمون کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو نبی کریم ﷺ نے۔ حدیث میں فرمایا۔ الخیل معقود فی نواصیہا الخیر الیٰ یوم القیامۃ " لیکن دوسرے علماء نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ حضرت سلیمان کو گھوڑوں کے معائنہ میں مشغول ہو کر اس وقت کی نماز یا وظیفہ سے ذہول ہوگیا (اور ذہول و نسیان انبیاء کے حق میں محال نہیں (فرمایا کہ دیکھو ! ) مال کی محبت نے مجھ کو اللہ کی یاد سے غافل کردیا حتی کہ غروب آفتاب تک میں اپنا وظیفہ ادا نہ کرسکا۔ یا مانا کہ اس مال کی محبت میں بھی ایک پہلو عبادت کا اور خدا کی یاد کا تھا۔ مگر خواص و مقربین کو یہ فکر بھی رہتی ہے کہ جس عبادت کا جو وقت مقرر ہے اس میں تخلف نہ ہو۔ اور ہوتا ہے تو صدمہ اور قلق سے بےچین ہوجاتے ہیں (گو عذر سے ہو) گر زباغِ دل خلالے کم بود : بردل سالک ہزاراں غم بود۔ " غزوہ خندق " میں دیکھ لو نبی کریم ﷺ کی کئی نمازیں قضا ہوگئیں۔ باوجودیکہ کہ آپ ﷺ عین جہاد میں مشغول تھے اور کسی قسم کا ذنب آپ پر نہ تھا، لیکن جن کفار کے سبب سے ایسا پیش آیا، آپ ﷺ ان کے حق میں " ملا اللہ بیوتہم وقبورہم نارا " وغیرہ سے بددعا فرما رہے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی ایک موقت عبادت کے فوت ہوجانے سے بیتاب ہوگئے۔ حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو واپس لاؤ (جو یاد الٰہی کے فوت ہونے کا سبب بنے ہیں) جب لائے گے تو شدت غیرت اور غلبہ حب الٰہی میں تلوار لے کر ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹنا شروع کردیں۔ تاکہ سبب غفلت کو اپنے سے اس طرح علیحدہ کریں کہ وہ فی الجملہ کفارہ اس غفلت کا ہوجائے۔ شاید ان کی شریعت میں قربانی گھوڑے کی جائز ہوگی اور ان کے پاس گھوڑے وغیرہ اس کثرت سے ہوں گے ان چند گھوڑوں کے قربان کرنے سے مقصد جہاد میں کوئی خلل نہ پڑتا ہوگا۔ اور لفظ " فطفق مسحًا " سے بھی یہ لازم نہیں آتا کہ سب گھوڑوں کو قتل ہی کر گزرے ہوں۔ محض اتنا ہے کہ یہ کام شروع کردیا۔ واللہ اعلم۔ اس تقریر کلی تائید ایک حدیث مرفوع سے ہوتی ہے جو طبرانی نے باسناد حسن ابی بن کعب سے روایت کی ہے (راجع روح المعانی وغیرہ)
Top