Mufradat-ul-Quran - Saad : 33
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
رُدُّوْهَا : پھیر لاؤ انہیں عَلَيَّ ۭ : میرے سامنے فَطَفِقَ : پھر شروع کیا مَسْحًۢا : ہاتھ پھیرنا۔ صاف کرنا بِالسُّوْقِ : پنڈلیوں پر وَالْاَعْنَاقِ : اور گردنوں
(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے
رُدُّوْہَا عَلَيَّ۝ 0 ۭ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ۝ 33 رد الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( رد د ) الرد ( ن ) اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے ) لوگوں سے اس کا عذاب تو ہمیشہ کے لئے ٹلنے والا ہی نہیں ۔ طفق يقال : طَفِقَ يفعل کذا، کقولک : أخذ يفعل کذا، ويستعمل في الإيجاب دون النّفي، لا يقال : ما طَفِقَ. قال تعالی: فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] ، وَطَفِقا يَخْصِفانِ [ الأعراف/ 22] . ( طق ) طفق یفعل کذا : وہ ایسا کرنے لگا یہ اخذ یفعل کی طرح ( کسی کام کو شروع کرنے کے معنی دیتا ) ہے اور ہمیشہ کلام مثبت میں استعمال ہوتا ہے لہذا ماطفق کذا کہنا جائز نہیں ہے ۔ قرآن میں ہے : فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر نے لگے ۔ وَطَفِقا يَخْصِفانِ [ الأعراف/ 22] اور وہ لگے ۔ چپکانے ۔ مسح المَسْحُ : إمرار الید علی الشیء، وإزالة الأثر عنه، وقد يستعمل في كلّ واحد منهما . يقال : مسحت يدي بالمندیل، وقیل للدّرهم الأطلس : مسیح، وللمکان الأملس : أمسح، ومسح الأرضَ : ذرعها، وعبّر عن السّير بالمسح کما عبّر عنه بالذّرع، فقیل : مسح البعیرُ المفازةَ وذرعها، والمسح في تعارف الشرع : إمرار الماء علی الأعضاء . يقال : مسحت للصلاة وتمسّحت، قال تعالی: وَامْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ [ المائدة/ 6] . ومسحته بالسیف : كناية عن الضرب، كما يقال : مسست، قال تعالی: فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] ، وقیل سمّي الدّجّال مَسِيحاً ، لأنّه ممسوح أحد شقّي وجهه، وهو أنه روي «أنه لا عين له ولا حاجب» «3» ، وقیل : سمّي عيسى عليه السلام مسیحا لکونه ماسحا في الأرض، أي : ذاهبا فيها، وذلک أنه کان في زمانه قوم يسمّون المشّاء ین والسّيّاحین لسیرهم في الأرض، وقیل : سمّي به لأنه کان يمسح ذا العاهة فيبرأ، وقیل : سمّي بذلک لأنه خرج من بطن أمّه ممسوحا بالدّهن . وقال بعضهم «4» : إنما کان مشوحا بالعبرانيّة، فعرّب فقیل المسیح وکذا موسیٰ کان موشی «5» . وقال بعضهم : المسیح : هو الذي مسحت إحدی عينيه، وقد روي : «إنّ الدّجّال ممسوح الیمنی» «1» و «عيسى ممسوح الیسری» «2» . قال : ويعني بأنّ الدّجّال قد مسحت عنه القوّة المحمودة من العلم والعقل والحلم والأخلاق الجمیلة، وأنّ عيسى مسحت عنه القوّة الذّميمة من الجهل والشّره والحرص وسائر الأخلاق الذّميمة . وكنّي عن الجماع بالمسح، كما کنّي عنه بالمسّ واللّمس، وسمّي العرق القلیل مسیحا، والمِسْحُ : البِلَاسُ. جمعه : مُسُوح وأَمساح، والتِّمْسَاح معروف، وبه شبّه المارد من الإنسان . ( م س ح ) المسح کے معنی کسی چیز پر ہاتھ پھیرنے اور اس سے نشان اور آلائش صاف کردینے کے ہیں اور کبھی صرف کسی چیز پر ہاتھ پھیرنا اور کبھی اذالہ اثر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ مسحت یدی با لمندیل : میں نے رو مال سے ہاتھ پونچھا اور گھسے ہوئے چکنے در ہم ( سکہ ) کو مسیح کہا جاتا ہے اور ہموار اور چکنی جگہ کو مکان امسح کہہ دیتے ہیں ۔ مسح الارض اس نے زمین کی پیمائش کی ۔ پھر جس طرح ( مجازا ) ذرع ( ناپن ا) کے معنی چلنا اور مسافت طے کرنا آجاتے ہیں ۔ اسی طرح مسح کا لفظ بھی چلنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے : ۔ مسح البعیر المفا ذۃ وذرعھا : اونٹ نے بیا باں کو عبور کیا ۔ اصطلاح شریعت میں مسح کے معنی اعضاء پر پانی گذار نے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ مسحت للصلوۃ وتمسحت میں نے نماز کے لئے مسح کیا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَامْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ [ المائدة/ 6] اور سر کا مسح کرلیا کرو اور پاؤں دھو لیا کرو ۔ اور کبھی مسیست کی طرح مسحتہ باسیف کے معنی بھی تلوار سے مارنا کے آجاتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] پھر ان کی ٹانگوں اور گر دنوں پر ہاتھ پھیر نے لگے بعض نے کہا ہے کہ دجال کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس کے چہرے کی ایک جانب مسخ ہوچکی ہوگی ۔ چناچہ مروی ہے انہ لاعین لہ ولا حاجب کہ اس کے ایک جانب کی آنکھ اور بھویں کا نشان تک نہیں ہوگا ۔ اور عیسٰی (علیہ السلام) کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ زمین میں سیاست کرتے تھے ۔ اور ان کے زمانہ میں ایک گر وہ تھا جنہیں زمین میں سیاست کی وجہ سے مشائین اور سیا حین کہا جاتا تھا بعض کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے مس کرنے سے چونکہ کوڑھی تندرست ہوجاتے تھے اس لئے آپ ﷺ کو مسیح کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ بعض نے اس کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بطن م اور سے پیدا ہوئے تو یوں معلوم ہوتا تھا ان کے بدن پر تیل کی مالش کی گئی ہے ۔ اس لئے انہیں مسیح کہا گیا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ یہ عبرانی لفظ مشوح سے معرب ہے جیسا کہ موسٰی عبرانی لفظ موشیٰ سے معرب ہے بعض کا قول یہ ہے کہ مسیح اسے کہتے ہیں جس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہو اور مردی ہے ان الدجال ممسوح الینمی وان عیسیٰ ممسوح الیسری ٰ کہ دجال کی دائیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی اس کے معنی یہ ہیں کہ دجال علم وعقل حلم اور دیگر اخلاق جہلیہ سے کلیۃ محروم ہوگا اس کے بر عکس عیسیٰ (علیہ السلام) کی بائیں آنکھ مٹنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہالت حرص اور دیگر اخلاق مذمومہ سے پاک تھے ۔ پھر جس طرح مس اور لمس کے الفاظ کنایۃ مجامعت کے لئے آجاتے ہیں اسی طرح مسح بھی مجامعت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ معمولی پسینے پر بھی مسیح کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ اور مسیح ٹاٹ کر کہتے ہیں اس کی جمع مسود ومساح آتی ہے التمساح مگر مچھ کو کہتے ہیں اور تشبیہ کے طور پر سر کشی آدمی کو بھی تمساح کہہ دیتے ہیں ساق سَوْقُ الإبل : جلبها وطردها، يقال : سُقْتُهُ فَانْسَاقَ ، والسَّيِّقَةُ : ما يُسَاقُ من الدّوابّ. وسُقْتُ المهر إلى المرأة، وذلک أنّ مهورهم کانت الإبل، وقوله : إِلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَساقُ [ القیامة/ 30] ، نحو قوله : وَأَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنْتَهى [ النجم/ 42] ، وقوله : سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] ، أي : ملك يَسُوقُهُ ، وآخر يشهد عليه وله، وقیل : هو کقوله : كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] ، وقوله : وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ القیامة/ 29] ، قيل : عني التفاف الساقین عند خروج الروح . وقیل : التفافهما عند ما يلفّان في الکفن، وقیل : هو أن يموت فلا تحملانه بعد أن کانتا تقلّانه، وقیل : أراد التفاف البليّة بالبليّة نحو قوله تعالی: يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] ، من قولهم : کشفت الحرب عن ساقها، وقال بعضهم في قوله : يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] :إنه إشارة إلى شدّة «2» ، وهو أن يموت الولد في بطن الناقة فيدخل المذمّر يده في رحمها فيأخذ بساقه فيخرجه ميّتا، قال : فهذا هو الکشف عن الساق، فجعل لكلّ أمر فظیع . وقوله : فَاسْتَوى عَلى سُوقِهِ [ الفتح/ 29] ، قيل : هو جمع ساق نحو : لابة ولوب، وقارة وقور، وعلی هذا : فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] ، ورجل أَسْوَقُ ، وامرأة سَوْقَاءُ بيّنة السّوق، أي : عظیمة السّاق، والسُّوقُ : الموضع الذي يجلب إليه المتاع للبیع، قال : وَقالُوا مالِ هذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْواقِ [ الفرقان/ 7] ، والسَّوِيقُ سمّي لِانْسِوَاقِهِ في الحلق من غير مضغ ( س و ق) سوق الابل کے معنی اونٹ کو سنکانے اور چلانے کے ہیں یہ سفقتہ ( ن) کا مصدر ہے اور انسان ( انفعال ) کے معنی ہنکانے کے بعد چل پڑنے کے ہیں ان جانوروں کو جو ہنکائے جاتے ہیں سیقۃ کہا جاتا ہے ۔ اور عورت کو مہر ادا کرنے کے لئے سقت المھر الی المرءۃ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اس لئے کہ عرب حق مہر میں وعام طور پر ) اونٹ دیا کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ إِلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَساقُ [ القیامة/ 30] میں امساق سے معنی پروردگار کی طرف چلنا کے ہیں جیسا کہ آیت : ۔ وَأَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنْتَهى [ النجم/ 42] میں ہے یعنی تمہیں اپنے پروردگار کے پاس پہچنا ہے اور آیت سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک ( اس کے عملوں کی ) گواہی دینے والا ۔ میں سابق سے وہ فرشتہ مراد ہے جو اسے چلا کر حساب کے لئے پیش کرے گا اور دوسرا فرشتہ شہید بطور گواہ کے اس کے ساتھ ہوگا جو اسکے حق میں یا سکے خلاف گواہی گا بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت : ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کیطرف دھکیلے جاتے ہیں کے ہم معنی ہے اور آیت : ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ القیامة/ 29] اور پنڈلی لپٹ جائے گی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں قبض روح کے وقت پنڈلیوں کا لپٹنا مراد لیا ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ان لپٹنے سے مراد موت ہے کہ زندگی میں وہ اس کے بوجھ کو اٹھا کر چلتی تھیں لیکن موت کے بعد وہ اس بار کی متحمل نہیں ہوسکیں گی ۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک شدت کا دوسری شدت سے لپٹنا مراد ہے اسی طرح آیت : ۔ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائیگا ۔ میں پنڈلی سے کپرا ا اٹھانا صعوبت حال سے کنایہ ہے اور یہ کشفت الحرب عن ساقھا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی لڑائی کے سخت ہوجانے ہیں ۔ بعض نے اس کی اصل یہ بیان کی ہے کہ جب اونٹنی کے پیٹ میں بچہ مرجاتا ہے تو مزمر ( جنوانے والا ) اس کے رحم کے اندر ہاتھ ڈالتا ہے : ۔ اور اسے پنڈلیوں سے پکڑ کر ذور سے باہر نکالتا ہے ۔ اور یہ کشف عن الناق کے اصل معنی ہیں پھر ہر ہولناک امر کے متعلق یہ محاورہ استعمال ہوناے لگا ہے تو یہاں بھی شدت حال سے کنایہ ہے اور آیت : ۔ فَاسْتَوى عَلى سُوقِهِ [ الفتح/ 29] اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ سوق ساق کی جمع ہے جیسے لابۃ کی جمع لوب اور فارۃ کی جمع فور آتی ہے ۔ اور اسی طرح آیت : ۔ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] پھر ان کی ٹانگوں اور گر دنوں پر ہاتھ پھیر نے لگے ۔ میں بھی سوق صیغہ جمع ہے اور رجل اسوق کر معنی بڑی پنڈلیوں والے آدمی کے ہیں اسکی مؤنث سوقاء آتی ہے اور سوق کے معنی بازار بھی آتے ہیں جہاں خرید فروخت ہوتی ہے اور فروخت کے لئے وہاں سامان لے جایا جاتا ہے اس کی جمع اسواق ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَقالُوا مالِ هذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْواقِ [ الفرقان/ 7] یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے ۔ اور بازروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ السویق کے معنی ستو کے ہیں کیونکہ وہ بغیر جائے حلق سے نیچے اتر جاتے ہیں ۔ عنق العُنُقُ : الجارحة، وجمعه أَعْنَاقٌ. قال تعالی: وَكُلَّ إِنسانٍ أَلْزَمْناهُ طائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ( ع ن ق ) العنق ۔ گردن جمع اعناق ۔ قرآن میں ہے : وَكُلَّ إِنسانٍ أَلْزَمْناهُ طائِرَهُ فِي عُنُقِهِ [ الإسراء/اور ہم نے پر انسان کے اعمال کو ( یہ صورت کتاب ) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے ۔
Top