Anwar-ul-Bayan - Saad : 33
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
رُدُّوْهَا : پھیر لاؤ انہیں عَلَيَّ ۭ : میرے سامنے فَطَفِقَ : پھر شروع کیا مَسْحًۢا : ہاتھ پھیرنا۔ صاف کرنا بِالسُّوْقِ : پنڈلیوں پر وَالْاَعْنَاقِ : اور گردنوں
(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے
(38:33) ردوھا : ای قال ردوھا : ردوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ رد باب نصر سے مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الصفنت الجیاد ہے۔ یعنی گھوڑوں کو میرے پاس واپس لاؤ۔ علی میرے سامنے۔ جیسا کہ عرض علیہ میں ہے (آیت 31: متذکرہ بالا) میں ہے۔ علی بمعنی مجھ پر بھی ہے۔ ای لہ علی حق اس کا مجھ پر حق ہے۔ فطفق مسحا بالسوق والاعباق : ای فلما ردوھا علیہ طفق یمسح سوقھا واعناقھا مسحا۔ یعنی جب وہ گھوڑے اس کے سامنے واپس لائے گئے تو وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ فطفق میں فاء فصیحت کے لئے ہے اور جملہ مقدرہ ماقبل کی وضاحت کے لئے ہے۔ نیز حکم کی بجا آوری کی سرعت پر دال ہے۔ یعنی ادھر حکم ہوا ادھر تعمیل ہوئی اور نتیجہ ظاہر ہوگیا۔ اس کی مثال اور جگہ قرآن مجید میں ہے فقلنا اضرب بعصاک الحجر فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا (2:60) ای فقلنا اضرب بعصاک الحجر فضرب فانفلق فالفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا۔ ہم نے (اس سے) کہا اپنے عصا کو پتھر پر مارو۔ پس اس نے (پتھر پر) مارا اور وہ پھٹ گیا تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ یعنی پتھر پر مارنے کا حکم دینا اور تعمیل میں پتھرکو مارنا (جھٹ پٹ) اس سے چشموں کا پھوٹ نکلنا سرعت عمل کو ظاہر کرتا ہے، اس سرعت کا ظاہر کرنے کے لئے عبارت میں بھی اختصار کیا گیا اور ایک جملہ حذف کردیا گیا۔ اسی طرح اس آیت میں حکم ہوا ردوھا فردوھا علیہ فطفق ۔۔ الخ مسحا مفعول مطلق ہے ای فطفق یمسح مسحا۔ سوق ساق کی جمع ہے پنڈلیاں۔ اعناق عنق کی جمع گردنیں۔ مسحا کے معنی میں دو قول ہیں :۔ (1) بعض نے طفق مسحا کا مفہوم تلوار سے کاٹنے کا لیا ہے ای شرع یمسح السیف بسوقھا واعناقھا۔ اس نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر تلوار پھیرنی شروع کردی۔ راغب کے مطابقمسحتہ بالسیف الضرب سے کنایہ ہے۔ یعنی تلوار سے کاٹنے لگا۔ اسی طرح عربی میں مسح علی دریدۃ گردن مارنے کو کہتے ہیں ۔ (2) دوسرے علماء کے مطابق یہاں مسح سے مراد پیار سے ہاتھ پھیرنا ہے۔ یعنی جب گھوڑے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس واپس لائے گئے تو محبت سے وہ ان کی گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے اور ان کی پنڈلیاں ٹٹولنے لگے۔ بقول حضرت ابن عباس ؓ :۔ جعل یمسح اطراف الخیل وطراقیہا حبالہا۔
Top