Tadabbur-e-Quran - Saad : 33
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
رُدُّوْهَا : پھیر لاؤ انہیں عَلَيَّ ۭ : میرے سامنے فَطَفِقَ : پھر شروع کیا مَسْحًۢا : ہاتھ پھیرنا۔ صاف کرنا بِالسُّوْقِ : پنڈلیوں پر وَالْاَعْنَاقِ : اور گردنوں
ان کو میرے سامنے واپس بلائو۔ تو وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر تلوار مارنے لگا۔
حضرت سلیمان کا امتحان ولقد فتنا سلیمن یعنی ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا۔ یہ امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ ضروری نہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کسی جرم ہی کی سزا کے طور پر امتحان میں ڈالے گئے ہوں۔ امتحان تمام نبیوں اور رسولوں کو پیش آئے ہیں جس سے ان کے صبر یا شکر کی آزمائش ہوئی ہے۔ اسی طرح کے ایک امتحان میں حضرت سلیمان ؑ بھی ڈالے گئے اور چونکہ وہ ایک بادشاہ تھے اس وجہ سے ان کو یہ امتحان ان کی بادشاہ کی راہ سے پیش آیا۔
Top