Tafseer-e-Baghwi - Saad : 33
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
رُدُّوْهَا : پھیر لاؤ انہیں عَلَيَّ ۭ : میرے سامنے فَطَفِقَ : پھر شروع کیا مَسْحًۢا : ہاتھ پھیرنا۔ صاف کرنا بِالسُّوْقِ : پنڈلیوں پر وَالْاَعْنَاقِ : اور گردنوں
(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے
مسحا بالسوق والاعناق کی تفسیر تفسیر 33۔ ، ردوھا علی فطفق سحا بالسوق والاعناق، ابو عبیدہ کا قول ہے مسح سے مراد کاٹنا ہے۔ پھر وہ گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹنے لگے۔ یہ قول ابن عباس ، حسن ، قتادہ ، مقاتل اور اکثراہل تفسیر نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ انہوں نے کبھی گھوڑوں کو نہیں کاٹاجب ان کو کسی چیز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ بعض نے کہا کہ انہوں نے ان کو ذبح کیا اور ان کے گوشت صدقہ کردیا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت سلیمان نے ان گھوڑوں کو جہاد کے لیے وقف کردیا تھا اور ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر وقف کی علامت کے طورپرداغ لگادیا تھا۔ زہری اور کیسان نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ان پر پڑا ہواغبار صاف کرنے کے لیے محبت اور پیار سے ہاتھ پھیرتے تھے لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ مشہور قول پہلا ہے۔ زہری نے حضرت علی ؓ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جو، ردوھا علی، کہا تھا وہ فرشتوں سے کہا تھا یعنی آفتاب پرمؤکل جو ملائکہ تھے۔ بحکم خدا ان سے کہا تھا کہ سورج کو واپس لوٹالاؤ، پھر آپ نے عصر کی نماز بروقت پڑھ لی۔
Top