Tafseer-e-Majidi - Saad : 33
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
رُدُّوْهَا : پھیر لاؤ انہیں عَلَيَّ ۭ : میرے سامنے فَطَفِقَ : پھر شروع کیا مَسْحًۢا : ہاتھ پھیرنا۔ صاف کرنا بِالسُّوْقِ : پنڈلیوں پر وَالْاَعْنَاقِ : اور گردنوں
ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لاؤ، پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا،34۔
34۔ یعنی غیرت دینی کے جوش میں ان گھوڑوں ہی کو ذبح کرڈالا، کہ جو چیز کچھ دیر کے لیے بھی یاد الہی سے غفلت کا باعث ہوئی وہ اس قابل نہیں کہ باقی رکھی جائے۔ (آیت) ” ردوھا “۔ ضمیر مؤنث گھوڑوں کی جانب ہے۔ والھاء فی ردوھاللخیل (قرطبی) بعض نے یہ معنی بھی لیے ہیں کہ آپ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر شفقت سے ہاتھ پھیرنے لگے، جب جہاد محبوب ومقصود تھا تو جو چیزیں آلات واسباب کا کام دے رہی تھیں قدرۃ وہ بھی آپ کے التفات کی پوری مستحق تھیں۔ (آیت) ” فطفق ..... الاعناق “۔ مراد ان گھوڑوں کے ذبح کر ڈالنے سے ہے قال الاکثرون معناہ انہ مسح السیف بسوقھا واعنا قھا اے قطعھا (کبیر) بعض مشائخ اور صوفیہ نے جامہ دری وغیرہ کی سند اسی فعل سلیمانی سے نکالی ہے۔ وقد استدل الشبلی وغیرہ من الصوفیۃ فی تقطیع ثیابھم وتخریقھا بفعل سلیمان ھذا (قرطبی)
Top