Kashf-ur-Rahman - Saad : 33
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
رُدُّوْهَا : پھیر لاؤ انہیں عَلَيَّ ۭ : میرے سامنے فَطَفِقَ : پھر شروع کیا مَسْحًۢا : ہاتھ پھیرنا۔ صاف کرنا بِالسُّوْقِ : پنڈلیوں پر وَالْاَعْنَاقِ : اور گردنوں
ذرا ان گھوڑوں کو پھر تو میرے پاس واپس لائو چناچہ گھوڑوں کی واپسی پر سلیمان نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا۔
(33) ان گھوڑوں کو میرے پاس واپس لائو اور واپس مجھ پر لوٹائو چناچہ گھوڑوں کی واپسی پر ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا۔ یعنی گھوڑوں ک وقتل کرنا شروع کردیا اور کہتے ہیں نو سو گھوڑے قتل کردیئے اور ایسا کرنا شاید ان کی شریعت میں جائز ہوگا اور اتنے گھوڑے قتل کردینے سے گھوڑوں میں کچھ کمی نہ پڑتی ہوگی۔ بعض حضرات نے کہا ایک دین کے فرض کی وجہ سے دوسرے فرض میں غفلت کوئی ایسی بڑی خطا نہ تھی جس پر گھوڑوں کو قتل کیا جاتا اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو صاف کرنا شروع کردیا اور گھوڑوں کی تعظیم کی یعنی جو چیز فوت ہوچکی وہ تو ہو ہی چکی اب گھوڑوں کو تو ٹھیک کر لیاجائے تیسری بات کہ فرشتوں سے کہا کہ آفتاب کو واپس لے آئو اور آفتاب واپس آگیا۔ اور انہوں نے اپنا مقررہ وظیفہ یا نماز ادا کرلی تو پھر فطفق مسحا کے دوسرے معنی صاف ہیں کہ وہ گھوڑوں کو صاف کرنے لگے اور ان کو کپڑے سے ملنے لگے۔ خلاصہ : یہ کہ مفسرین کے دو قول مشہور تھے ہم نے تیسیر میں دونوں کا خلاصہ عرض کردیا ہے کہ آفتاب کا غروب ہونے کے بعد واپس ہونا اگر یہ قول صحیح ہو تو اس پر کوئی اشکال نہیں جیسا کہ اس امت میں بھی نبی کریم ﷺ کا ایسا معجزہ موجود ہے جو حضرت علی کر اللہ وجہ کی نماز عصر فوت ہونے پر حضور ﷺ کی دعا سے ظاہر ہوا اور محدثین اس واقعہ کرتے ہیں۔ آگے حضرت سلیمان کے ایک امتحان اور ابتلا کا ذکر ہے۔
Top