Al-Quran-al-Kareem - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
اور ان کے سر کردہ لوگ چل کھڑے ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقینا یہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔
وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ : ”الْمَلَاُ“ کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (246) یعنی کفار کے سرکردہ اور بڑے لوگ توحید کی دعوت سن کر آپ کی مجلس سے یہ کہہ کر چل کھڑے ہوئے کہ اپنے دین اور طریقے پر چلتے رہو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، جیسا کہ قوم نوح نے کہا تھا : (لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ڏ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا) [ نوح : 23 ] ”تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی وَدّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔“ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو باطل اور شرک پر ڈٹے رہنے کی اتنی تاکید کر رہے ہیں، اہل حق کو تو اس سے زیادہ حق پر قائم رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کو قائم رہنے کی تاکید کرنی چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَالْعَصْرِ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۔ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بالصَّبْرِ) [ العصر : 1 تا 3 ] ”زمانے کی قسم ! کہ بیشک ہر انساناً گھاٹے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔“ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ : یعنی اس نے ہمارے سامنے جو کلمہ توحید پیش کیا ہے یہ ایسی چیز ہے جس کے اعلان کا اور اسے ہر حال میں نافذ کرنے کا ارادہ کیا جا چکا ہے، اب اسے اس سے باز رکھنے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے اسے اس کے حال پر چھوڑو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔
Top