Anwar-ul-Bayan - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
(38:34) ولقد فتنا قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے فتنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ تحقیق ہم نے آزمایا۔ القینا۔ ماضی جمع متکلم القاء (افعال) مصدر سے۔ ہم نے ڈالا۔ ہم نے ڈال دیا۔ کرسیہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی کرسی۔ اس کا تخت۔ جب کرسی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد علم حکومت ، فرما نروائی۔ سلطنت ہے۔ جسدا۔ بدن ، دھڑ۔ جسد کے معنی جسم ہی کے ہیں۔ مگر یہ اس سے اخص ہے۔ کیونکہ جسد وہ ہے جس میں رنگ ہو۔ اور جسم کا استعمال اس کے لئے بھی ہوتا ہے جس کا رنگ ظاہر نہ ہو۔ جیسے پانی ، ہوا۔ اس کی جمع اجساد ہے۔ اناب۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ انابۃ (افعال) سے وہ رجوع ہوا۔ انابت الی اللہ کے معنی اخلاص عمل اور دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور توبہ کرنے کے ہیں۔
Top