Ashraf-ul-Hawashi - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
(بھلا یہ کیوں کر ہوسکتا ہے ض کیا جو لوگ ایمانلائے اور انہوں نے (محنت مشقت اٹھا کر) اچھے کام کئے ان کو ہم ان لوگوں کی طرح کردیں گے جنہوں نے ملک میں دھندہ6 مچایا کیا ہم پرہیز گاروں کو بدکاروں کی طرح کر دینگے7
6 یعنی کفر و شرک کی راہ پر چلتے رہے۔7 اس سوال سے مقصود آخرت اور اس میں ہونے والے حساب و کتاب کی دلیل پیش کرنا ہے۔ یعنی اگر آخرت اور اس میں اعمال کا محاسبہ نہ ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و انصاف کی نفی ہوتی ہے اور اس سے کائنات کا پورا نظام محض ایک بےمقصد کھیل تماشہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
Top