Tafseer-al-Kitaab - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے زمین میں فساد مچانے والوں کی طرح کردیں ؟ کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کردیں ؟
[11] یعنی ہمارے عدل و انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ نیک اور ایمان والوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں۔ دنیا میں بہت سے نیک اور ایمان دار آدمی قسم قسم کے مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش اور بدکردار مزے کرتے ہیں۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو تاکہ ہر نیک وبد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ مل سکے۔
Top