Jawahir-ul-Quran - Saad : 28
اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ
اِلَّا : سوائے عِبَادَكَ : تیرے بندے مِنْهُمُ : ان میں سے الْمُخْلَصِيْنَ : (جمع) مخلص
کیا ہم دیں گے27 ایمان والوں کو جو کرتے ہیں نیکیاں برابر ان کے جو خرابی ڈالیں ملک میں کیا ہم کردیں گے ڈرنے والوں کو برابر ڈھیٹ لوگوں کے
27:۔ ام نجعل الخ : یہ زجر ہے۔ قیامت کا انکار در اصل جزاء و سزا کا انکار ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایمان والے جن کی زندگی اصلاح وتقوی میں بسر ہو وہ ان فساق فجار کے برابر ہوجائیں جن کی زندگیوں کا مشن ہی شر و فساد بپا کرنا ہے اگر جزاء و سزا نہیں تو متقین جزاء اعمال سے محروم اور مفسدین بد عملی کی سزا سے محفوظ رہیں گے حالانکہ یہ سراسر بےانصافی اور خلاف عقل ہے۔ والمراد انہ لو بطل الجزاء کما یقول الکفار لاستوت احوال من اصلح وافسد واتقی وفجر و من سوی بینہم کان سفیہا ولم یکن حکیما (مدارک) ۔
Top