Dure-Mansoor - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے ہم انہیں ان لوگوں کے طرح کردیں گے جو زمین میں فساد کرنے والے ہیٗں، کیا ہم متقیوں کو فاجروں کی طرح کردیں گے
1:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام نجعل الذین امنوا الصلحت کالمفسدین فی الارض “ (ہاں تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھا کام کئے ان کے برابر کردیں گے جو دنیا میں فساد کرنے والے ہیں فرمایا (آیت ) ” الذین امنوا “ (جو لوگ ایمان لائے) یعنی حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، اور حضرت عبیدہ بن حارث ؓ ، (آیت ) ” کالمفسدین فی الارض “ (اور زمین میں فساد کرنے والے) یعنی عتبہ، شیبہ، اور ولید انہوں نے بدر کے دن دعوت مبازرت دی تھی۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام نجعل الذین امنوا الصلحت “ سے لے کر ” کالفجار “ تک (یعنی) قسم ہے میری زندگی کی یہ آپس میں برابر نہیں ہوسکتے یقینی طور پر یہ لوگ دنیا میں الگ الگ ہوگئے، موت کے وقت۔ اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام نجعل المتقین کالفجار “ 3:۔ ابویعلی نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا جس طرح کانٹوں سے انگور نہیں چنے جاسکتے اسی طرح بدکار لوگ نیک لوگوں کی منازل کو نہیں پہنچ سکتے۔ سورۃ ص ٓ آیت (29) ترجمہ : یہ کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے مبارک ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں (29) ۔ 1:۔ سعید بن منصور نے حسین ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولیتذکر “ (تاکہ اس کی آیتوں پر غور کریں) یعنی اس کا اتباع کریں اپنے عمل کے ساتھ۔ 2:۔ ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولوالالباب “ یعنی لوگوں میں سے عقل والے۔
Top