Kashf-ur-Rahman - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان مفسدوں کے برابر کردیں گے جو ملک میں فساد برپا کرتے پھرتے ہیں یا ہم پرہیز گاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے۔
(28) تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے ایسے حضرات کو ان شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں گے جو زمین میں کفر وشرک پھیلا کر فساد برپا کرتے رہتے ہیں یا ہم متقیوں اور پرہیزگاروں کو بدکاروں اور باجروں کے برابر کردیں گے۔ یعنی قیامت کے نہ آنے کو یہ مستلزم ہے کہ برے بھلوں کو اپنی اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے بھلا ایسا کس طرح ہوسکتا ہے کہ نیکوکاروں کو ان کی نیکی کا صلہ نہ ملے اور بدکاروں اور شریوں کو ان کی بدکاری اور شرارت کی پاداش نہ دی جائے۔ آگے رسالت اور نبی کریم ﷺ کے رسول ہونے کا اظہار ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Top