Maarif-ul-Quran - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
کیا ہم کردیں گے ایمان والوں کو جو کرتے ہیں نیکیاں برابر ان کے جو خرابی ڈالیں ملک میں کیا ہم کردیں گے ڈرنے والوں کو برابر ڈھیٹ لوگوں کے ؟
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ (تو کیا ہم ایمان لانے والوں اور نیکو کاروں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کے برابر کردیں گے یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے ؟) یعنی ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، بلکہ دونوں کا انجام بالکل مختلف ہوگا۔ اسی سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ مومن اور کافر کا یہ فرق آخرت کے احکام کے اعتبار سے ہے۔ دنیا میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافر کو مومن سے بڑھ کر مادی راحتیں مل جائیں۔ نیز اس سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکالا جاسکتا کہ کافر کے دنیوی حقوق مومن کی برابر نہیں ہو سکتے۔ بلکہ کافر کو مسلمان کے برابر انسانی حقوق دیئے جاسکتے ہیں۔ چناچہ اسلامی مملکت میں جو غیر مسلم اقلیتیں عہد و پیمان کے ساتھ بستی ہوں، انہیں تمام انسانی حقوق مسلمانوں کے برابر ہی دیئے جائیں گے۔
Top