Tafseer-e-Baghwi - Saad : 25
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ
فَغَفَرْنَا : پس ہم نے بخش دیا لَهٗ : اس کی ذٰلِكَ ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لَهٗ : اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
تو ہم نے ان کو بخش دیا اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے
25، فغفرنالہ ، قرب مکان ہوگا۔ ، وحسن ماب، اچھا ٹھکانا اور اسی کی طرف لوٹ جانا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ وہب بن منبہ نے بیان کیا جب اللہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی توبہ قبول کرلی، تب بھی آپ برابر اپنے قصورپرروتے رہے ، رات دن کسی وقت آپ کے آنسونہ رکتے تھے۔ اس وقت آپ کی عمر سترسال کی تھی۔ اس قصور کے بعد آپ نے اپنی عمر کے چار حصے کردیئے۔ ایک دن بنی اسرائیل کے معاملات کے فیصلہ کرنے کے لیے مقرر کیا، ایک دن عورتوں کے لیے ، ایک دن جنگلوں اور پہاڑوں میں ساکر اللہ کی پاکی بیان کرنے (اور حمد وثناء کرنے) کا اور ایک روز اپنے گھر کے اندررہ کرنوحہ کرنے کا۔ آپ کے اندرچار ہزارعبادت کے مقام تھے۔ جب آپ گھر میں خلوت گزیں ہوجاتے تو (چارہزار) تارک الدنیا درویش آپ کے پاس آکرجمع ہوجاتے، پھر آپ ان درویشوں کے ساتھ نوحہ کرتے اور درویش بھی اس رونے میں آپ کے مددگار ہوتے ۔ پھر جب جنگل میں پھر نے کا دن ہوتا تو آپ صحراء میں نکل جاتے اور (زیروبم یعنی) لے کے ساتھ اونچی آواز سے روتے، پہاڑ اور پتھر اور چوپائے اور پرندے بھی آپ کے ساتھ روتے، یہاں تک کہ ان سب کے رونے سے نالے بہہ نکلتے۔ پھر آپ دریا کے کنارے پر پہنچتے اور لے کے ساتھ اونچی آواز سے نوحہ کرتے اور مچھلیاں اور دریائی چوپائے اور دریائی پرندے اور درندے، سب ہی آپ کے ساتھ رونے میں شریک ہوتے۔ پھر آپ شام کے وقت وہاں سے لوٹتے تھے۔ گھر کے اندر نوحہ کا دن ہوتا تو ایک منادی ندا کرتا، آج داؤد کے گریہ وبکاکادن ہے جو شخص اس رونے میں ان کی موافقت کرنا چاہے وہ آجائے۔ پھر عبادت گاہوں کے احاطے کے اندر آپ تین فرش بچھوادیتے تھے جن کے اندر کھجور کی چھال کے ریشے بھرے ہوتے تھے۔ آپ فرش پر جاکر بیٹھ جاتے ، پھر چار ہزار درویش اپنی لمبی لمبی ٹوپیاں پہنے ، لاٹھیاں ہاتھوں میں لیے اندر آکر فرش پر بیٹھ جاتے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے گناہ پر اونچی آواز سے روناشروع کرتے اور درویش بھی آپ کے ساتھ اونچی آوازوں سے نوحہ کرتے۔ روتے روتے یہ حالت ہوجاتی کہ فرش آپ کے آنسوؤں میں ڈوب جاتا اور آپ اس میں گرکر چوزئہ مرغ کی طرح تڑپنے لگتے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) آکر آپ کو (اپنے ہاتھوں میں) اٹھا تے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) دونوں ہاتھوں کا چلوبناکر آنسوؤں کا پانی اس میں بھرکر اپنے چہرے پر مل لیتے اور کہتے : اے میرے رب ! میراقصورمعاف فرمادے۔ اگر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے رونے کا ساری دنیا کے رونے والوں سے موازنہ کیا جائے تو برابر ہی ہوگا۔ وہب کا بیان ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) اوپر سر نہیں اٹھا تے تھے۔ جب فرشتے نے آپ سے کہا : داؤد ! تمہارا آغاز گناہ اور انجام مغفرت ہے، اپناسر اٹھاؤ، اس وقت آپ نے سر اٹھایا۔ اس کے بعد زندگی بھرجب تک پانی میں آپ نے اپنے آنسوؤں کو شامل نہ کرلیا، پانی نہ پیا اور، جب تک کھانے کو اشکوں سے ترنہ کرلیا، نہ کھایا۔ اور زاعی نے حدیث مرفوع بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : داؤد کی دونوں آنکھیں دومشکیزوں کی طرح (ہروقت) پانی پٹکاتی ہی رہتی تھیں۔ چہرے پر آنسوبہنے سے ایسے گڑھے پڑگئے تھے جیسے زمین میں پانی (جاری ہونے) سے گڑھے پڑجاتے ہیں۔ وہب نے بیان کیا جب اللہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی توبہ قبول کرلی تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا، اے میرے رب ! تونے میرا قصور معاف کردیا لیکن یہ کیسے ہو کہ اپنے گناہ کو (کبھی) نہ بھولوں اور ہمیشہ معافی مانگتارہوں، اپنے لیے بھی اور دوسرے گنہگاروں کے لیے بھی ۔ اس درخواست پر اللہ نے ان کے دائیں ہاتھ پر ان کا گناہ لکھ دیا (جس کا مٹنا ناممکن تھا) جب آپ ہاتھ سے کھانا یا پانی لیتے تو گناہ نظر کے سامنے آجاتا اور جب لوگوں کو خطاب کرنے کھڑے ہوتے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے تو لوگ گناہ کی تحریردیکھنے آگے آجاتے اور جب دعا کرتے تو اس گناہ کو سامنے رکھ کر اپنے لیے استغفار سے پہلے دوسرے گنہگاروں کے لیے استغفار کرتے۔ قتادہ نے حسن کا بیان نقل کیا ہے کہ اس گناہ کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) ہمیشہ گنہگاروں کے ساتھ ہی بیٹھتے تھے اور فرماتے تھے : آؤداؤد ! گنہگاروں کے پاس آؤاور جب تک پانی میں اپنے آنسوشامل نہ کرلیتے ، کبھی پانی نہ پیتے تھے اور خشک روٹی کے ٹکڑے کو روروکر اشکوں سے بھگولیتے ، پھر اس پر کچھ نمک اور خاک چھڑک کر کھاتے اور فرماتے : گنہگاروں کا یہی کھانا ہے۔ اس گناہ سے پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) آدھی رات سوتے اور نصف ایام (یعنی ایک روزبیچ ناغہ کرکے) روزے رکھتے تھے لیکن اس گناہ کے بعد ہمیشہ ہی دن میں روزے رکھتے اور رات بھرنماز پڑھتے تھے۔ ثابت کا بیان ہے جب حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کے عذاب کو یاد کرتے تو آپ کا جوڑجوڑڈھیلا پڑجاتا کہ بغیر بندھن ہے باندھنے کے ان میں قوت نہ آتی تھی اور جب اللہ کی رحمت کو یاد کرتے تو جوڑ اپنے اصلی ٹھکانوں پر آجاتے۔ اس قصہ میں یہ بھی (بعض روایات میں ) آیا ہے کہ پہلے آپ کی تلاوت سننے کے لیے جنگلی جانور اور پرندے جمع ہوجاتے تھے لیکن جب آپ سے قصور سرزدہوگیا تو چوپائے اور پرندے آپ کی آواز کو نہیں سنتے تھے اور کہتے تھے آپ کا گناہ آپ کی آواز کی مٹھاس کو لے گیا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا اے داؤد ! آپ کی غلطی آپ کی آواز کی حلاوت کی وجہ سے معاف کردی گئی۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ سورة (ص) میں سجدہ کیا اور یہ سجود میں سے نہیں ہے لیکن میں نے تحقیق آپ ﷺ کو دیکھا کہ وہ سجدہ کررہے ہیں۔ عوام سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے سورة ص کے سجدے کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ میں نے اس کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت فرمایا کہ کہاں سجدہ کیا۔ فرمایا کہ آپ یہ آیت نہیں پڑھتے۔ ، ومن ذریتہ داؤد و سلیمان، سے لے کر، اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، حضرت داؤد (علیہ السلام) وہ نبی ہیں جن کی اقتداء کے متعلق ہمارے پیار نبی ﷺ نے حکم دیا ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس جگہ سجدہ کیا، آپ ﷺ نے بھی اس جگہ سجدہ کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کہ میں ایک رات دیکھ رہا تھا کہ میں سورہاہوں اور میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہاہوں، جب میں سجدہ کرتا ہوں تو وہ درخت بھی میرے ساتھ سجدہ کرتا ہے اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا، اللھم کتب لی بھا عند ک اجراوحط عنی بھا وزراواجعلھا لی عندک ذخرا وتقبلھا منی کما تقبل تھا من عبدک داؤد، حسن نے کہا کہ ابن جریج نے کہا کہ اسی طرح تمہارے دادا نے کہا تھا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورة ص میں سجدہ کیا۔ پھر میں نے ان سے سناجس طرح کہ اس شخص نے درخت کے متعلق خبردی تھی۔
Top