Tafseer-e-Majidi - Saad : 25
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ
فَغَفَرْنَا : پس ہم نے بخش دیا لَهٗ : اس کی ذٰلِكَ ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لَهٗ : اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
سو ہم نے انہیں معاف کردیا اور ہمارئے ہاں ان کے لئے (خاص) قرب اور نیک انجامی ہے،26۔
26۔ (ان کے مرتبہ نبوت کے شایان شان) موجودہ بائبل میں حضرات انبیاء کی عجیب مٹی پلید کی گئی ہے اور اس میں کچھ کو رکسر رہ گئی تھی وہ تالمود وغیرہ یہود کے دوسرے مذہبی نوشتوں نے پوری کردی، قرآن مجید انبیاء (خصوصا انبیاء اسرائیل) کی مقبولیت وصالحیت کا پرزور اثبات بار بار انہیں اتہامات کی تردید کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” فغفرنالہ “۔ یعنی ہم نے ان سے اس کمی کا بھی ازالہ کردیا، جو ان کے مرتبہ ومعیار کے مطابق ان کے اجر کمال صبر پر مرتب ہوتا۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہ خفیف سی غفلت اور ان کے مرتبہ نبوت کے لحاظ سے لغزش۔ اے زلۃ (مدارک) یہاں بعض لوگوں نے ایک بےسروپارروایت اسرائیلیات سے لے کر نقل کردی ہے۔ لیکن محققین کا فیصلہ یہی ہے کہ ایسی روایت کسی عام مرد صالح کے حق میں بھی قابل قبول نہیں، چہ جائیکہ ایک نبی برحق کے حق میں۔
Top