Dure-Mansoor - Saad : 25
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ
فَغَفَرْنَا : پس ہم نے بخش دیا لَهٗ : اس کی ذٰلِكَ ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لَهٗ : اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
سو ہم نے وہ ان کو معاف کردیا اور بلاشبہ ان کے لئے ہمارے پاس نزدیکی ہے اور اچھا انجام ہے
1:۔ احمد فی الزھد والحکیم ترمذی (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “ (اور بلاشبہ ان کے لئے ہماری بارگاہ میں قرب اور اچھا انجام ہے) داؤد (علیہ السلام) کی جگہ قیامت کے دن عرش کے پائے کے پاس ہوگی پھر رب تعالیٰ فرمائیں گے اے داؤد (علیہ السلام) آج میری عظمت بیان کر اس اچھی اور نرم آواز کے ساتھ جو تو دنیا میں (خوش الحانی سے) میری عظمت بیان کیا کرتا تھا۔ داؤد (علیہ السلام) عرض کریں گے : اے میرے رب ! میں کیسے بیان کروں آپ نے اس (آواز) کو سلب کردیا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آج میں تجھ پر وہ آواز لوٹاد یتا ہوں تو ان کو آواز لوٹا دی جائے گی اور وہ ایسی آواز سے عظمت وکبریائی بیان کرنے لگیں گے کہ جنت والوں کی نعمتیں اس کے مقابلے میں نیکی سمجھی جانے لگیں گی۔ 2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے محمد بن کعب ؓ سے (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “ سے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے داؤد (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے (سلیمان (علیہ السلام) اٹھنے والے ہوں گے۔ 3:۔ عبد بن حمید نے سدی بن یحییٰ (رح) سے روایت کیا کہ مجھے ابو حصین نے بیان کیا کہ اس نے عمر بن خطاب کا زمانہ پایا کہ لوگوں کو قیامت کے دن پیاس اور شدید گرمی لگے گی، ایک آواز والا داؤد (علیہ السلام) کو آواز دے گا اور ان کو تمام لوگوں کے سامنے بلایا جائے گا، اسی کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے قیامت کے دن کا ذکر کرتے ہوئے اس کی شان اور اس کی شدت کا بیان فرمایا اور اللہ تعالیٰ داؤد (علیہ السلام) سے فرمائیں گے میرے آگے سے گزور داؤد (علیہ السلام) عرض کریں گے اے میرے رب میں ڈرتا ہوں کہ میری خطا مجھے ذلیل اور رسوا نہ کردے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے قدموں کو پکڑ لو تو وہ اللہ عزوجل کے قدموں کو پکڑ لیں گے پھر گزاریں گے تو فرمایا کہ یہی وہ زلفی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “۔ 5:۔ عبد بن حمید نے عبید بن عمیر (رح) سے (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اتنے قریب ہوں گے یہاں تک کہ اپنے ہاتھ کو اس پر رکھیں گے۔ 6:۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے ان کا وہ گناہ معاف کردیا (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “۔ حسن (رح) نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے اچھی لوٹنے کی جگہ۔ 7:۔ الحکیم ترمذی (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور ان کی خطا ان کی ہتھیلی میں دیکھی ہوئی ہوگی جب اس کو قیامت کے دن دیکھیں گے تو اس سے نکلنے کا راستہ نہیں پائیں گے مگر یہ کہ پناہ چاہیں گے اللہ کی رحمت کی طرف۔ پھر (غلطی کو) دیکھیں گے تو بےقرار ہوجائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : یہاں اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “ کا یہی مطلب ہے۔
Top