Tafseer-e-Madani - Saad : 25
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ
فَغَفَرْنَا : پس ہم نے بخش دیا لَهٗ : اس کی ذٰلِكَ ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لَهٗ : اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
سو ہم نے ان کو معاف کردیا ان کا وہ قصور اور یقینا ہمارے یہاں تو ان کے لئے ایک خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانا بھی
33 حضرت داؤد کے لیے مغفرت و بخشش کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس پر ہم نے آپ کیلئے اس ۔ قصور۔ کو معاف کردیا "۔ یعنی جس کی آپ نے معافی مانگی تھی۔ خواہ وہ دوسرے کی مخطوبہ کی منگنی کا مسئلہ ہو یا اس کی بیوی کی طلاق کا مطالبہ۔ خواہ اپنی عبادت کا خیال و گھمنڈ ہو اور خواہ ان دو آدمیوں کے بارے میں یہ بدظنی کہ وہ اغتیال وغیرہ کسی برائی کے لئے آئے ہیں یا کوئی اور صورت وغیرہ کہ۔ " ذالک " کا عموم ان سب ہی مفاہیم کو عام اور شامل ہے۔ کیونکہ سچی توبہ پر سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں خواہ وہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ اور توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا گیا ہے۔ سو اس میں یہ درس عظیم پایا جاتا ہے کہ انسان سے جب اس کے بشری تقاضوں کی بنا پر کوئی کوتاہی سرزد ہوجائے تو وہ فورا توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع کرے۔ اور رجوع بھی صحیح طور پر اور ظاہر اور باطن دونوں کے اعتبار سے ہونا چاہیے۔ اور ظاہری طور پر رجوع الی اللہ کی سب سے بڑی اور واضح صورت رکوع و سجود ہے۔ اور باطنی رجوع دل کی انابت سے ہوتا ہے۔ یہاں پر ان تینوں چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ " راکعا " میں رکوع کا ذکر اور " خر " میں سجدے کا اور " اناب " میں رجوع قلبی کا۔ سو حضرت داؤد نے ایسا ہی کامل رجوع کیا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 34 توبہ و استغفار وسیلہ قرب و رفع درجات : سو حضرت ِداؤد کی نہ صرف یہ کہ بخشش فرمائی گئی بلکہ آنجناب کو مزید قرب و درجات سے نوازا گیا۔ سو ارشاد ہوتا ہے " اور بلاشبہ ہمارے یہاں ان کیلئے ایک خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانہ بھی "۔ یعنی اس تقصیر سے آپ (علیہ السلام) کے مرتبہ و مقام میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ اضافہ ہی ہوا۔ اور یہی شان ہوتی ہے اللہ پاک کے خاص اور مخلص بندوں کی کہ ان کی لغزش بھی ان کے لئے مزید ترقی اور عروج کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ حضرت آدم کو بھی خلیفتہ اللہ فی الارض کا شرف و اعزاز اپنی کوتاہی اور غلطی کی سچی توبہ وانابت کے بعد ہی نصیب ہوا۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَعَصٰی آٰدَمُ رَبَّہ فَغَوٰی، ثُمَّ اجْتَبٰہ فَتَابَ عَلَیْہِ وَہَدٰی } ۔ (طہ : 121- 122) ۔ اور ہر سچی توبہ سے آدمی کا مرتبہ و مقام اور بڑھ جاتا ہے اور ہر رجوع الی اللہ سے اس کو قرب حاصل ہوتا ہے۔ پس اس کی طرف رجوع صحیح طور پر ہونا چاہیے جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی گزرا کہ اس کی طرف رجوع ظاہر سے بھی ہو اور باطن سے بھی۔ جیسا کہ حضرت داؤد نے کیا کہ ظاہری طور پر رکوع و سجود بھی کیا اور باطن سے انابت بھی۔ اسی لیے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس مقام پر سجدہ کرنا لازم نہیں لیکن میں نے اللہ کے رسول کو یہاں پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ( صحیح بخاری، کتاب سجود القرآن، باب سجدہ ) ۔ اور دوسری روایت میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت داؤد نے یہ توبہ کے طور پر کیا اور ہم شکر کے طور پر کرتے ہیں۔ ( نسائی، کتاب الافتتاح، باب سجود القرآن ) ۔
Top