Maarif-ul-Quran - Saad : 25
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ
فَغَفَرْنَا : پس ہم نے بخش دیا لَهٗ : اس کی ذٰلِكَ ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لَهٗ : اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
پھر ہم نے معاف کردیا اس کو وہ کام اور اس کے لئے ہمارے پاس مرتبہ ہے اور اچھا ٹھکانا۔
وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَـزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ (اور بلاشبہ ان کے لئے ہمارے یہاں خاص تقرب اور نیک انجامی ہے) اس آیت پر واقعے کو ختم کر کے اس بات کی طرف اشارہ کردیا گیا کہ حضرت داؤد ؑ کی لغزش جو کچھ بھی رہی ہو۔ ان کے استغفار اور انابت کے بعد اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے تعلق میں اور اضافہ ہوگیا۔
غلطی پر تنبیہ میں حکمت کی رعایت
اس واقعہ سے متعلق ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ حضرت داؤد ؑ کی لغزش خواہ کچھ رہی ہو، اللہ تعالیٰ براہ راست وحی کے ذریعہ بھی آپ کو اس پر متنبہ فرما سکتے تھے۔ لیکن اس کے بجائے ایک مقدمہ میں بھیج کر تنبیہ کے لئے یہ خاص طریقہ کیوں اختیار کیا گیا ؟ درحقیقت اس طریقہ پر غور کرنے سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ کسی شخص کو اس کی غلطی پر تنبیہ کیلئے حکمت سے کام لینے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ایسا طریقہ اختیار کرنا زیادہ اچھا ہے جس سے متعلقہ شخص خود بخود اپنی غلطی کو محسوس کرلے اور اسے زبانی تنبیہ کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ اور اس کے لئے ایسی تمثیلات سے کام لینا زیادہ موثر ہوتا ہے جس سے کسی کی دل آزاری بھی نہ ہو اور ضرورت بات بھی واضح ہوجائے۔
Top