Urwatul-Wusqaa - Saad : 25
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ
فَغَفَرْنَا : پس ہم نے بخش دیا لَهٗ : اس کی ذٰلِكَ ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لَهٗ : اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
پس ہم نے اس کو (تسلی دیتے ہوئے) معاف کردیا اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے پاس اعلیٰ مرتبہ اور نیک انجام ہے
ہم نے دائود (علیہ السلام) کو اپیں مغفرت و بخشش سے ڈھانپ لیا اور اس کو اعلی مقام عطا کیا۔ 25۔ دائود (علیہ السلام) کی اس علمی و عقلی دانش و فکر میں ہم نے مزید اضافہ کردیا اور اپنی مغفرت و بخشش میں اس کو لے لیے اور اس کے درجات تو ہمارے ہاں پہلے ہی بلند تھے کہ وہ ہمارے نبیوں اور رسولوں میں سے ایک نبی و رسول تھا لیکن اس کے بعد ہم نیء اس پر مزید نوازشات کیں اور اس کی حکومت و سطوت کو چار چاند دیئے اور ہر طرف اس کی ان مثالوں کا شہرہ ہونے لگا اور اس کی حکومت کی نیکی اور بزرگی چار سو پھیل گئی جس سے وہ اور بھی ہمارے نزدیک ہوگیا اور اس کا مقام پہلے کیا بلند تھا کہ اب ہوگیا۔ ہمارے مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ ضرور کوئی دائود (علیہ السلام) گناہ اور خطا کا کام ہوا ہے تب ہی تو وہ اس الحاح اور عاجزی سے اللہ رب کریم سے مغفرت طلب کر رہے ہیں اور اس بات کو بنیاد بنا کر پھر انہوں نے اور یاہ کا قصہ نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ چونکہ دائود (علیہ السلام) اور یاہ کی بوای پر عاشق ہوگئے تھے اور ایک خاص حیلہ سے اور یاہ کو ایک جنگ میں مروا کر اس کی بیوی سے نکاح کرلیا تھا حالانکہ آپ کے پاس پہلے بھی 99 بیویاں تھیں اس طرح آپ کی تفہیم کے لیے اللہ نے دو فرشتوں کو بھیج کر ان کو فرضی کہانی سنا کر راہ راست کی طرف دعوت دی تھی اس لیے جب وہ اس بات کو سمجھ گئے کہ دو فیصلہ کروانے والے دراصل میری ہی کہانی بیان کر رہے ہیں لٰہذا انہوں نے ان کو فیصلہ بھی سنایا اور اپنی اصلاح کے لیے اپنے اللہ کے سامنے توبہ و استغفار کی اور اللہ نے آپ کا وہ گناہ بخش دیا جو اور یاہ کی بیوی کے ساتھ نکاح کر کے کیا تھا پھر اس قصہ کو تورات سے اٹھا کر اس جگہ من وعن لا رکھا ہے جس کو ہم اس لیے ذکر نہیں کر رہے کہ یہ ساری باتیں ہم نے دائود (علیہ السلام) کی سر گزشت میں عرض کردی ہیں اور ہماری تفہیم کے مطابق بلاشبہ یہ دیوار پھلانگ کر آنے والے فرشتے نہیں بلکہ انسان ہی تھے اور ان کے آنے کا مقصد دائود (علیہ السلام) کو غافل پا کر ٹھکانے لگانا تھا لیکن جب وہ دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے تو دائود (علیہ السلام) غافل سوئے ہوئے نہیں تھے بلکہ چوکس و چوکنا تھے اگرچہ عبادت الٰہی میں مصروف تھے آپ نے ان کو دیکھا تو خبردار کی آواز دی اور وہ سہم گئے لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایک داستان گھڑ لی تاکہ اندر آنے کا کوئی جواز پیش کرسکیں اس طرح وہ اپنی اسکیم میں کامیاب نہ ہو سکے اور دائود (علیہ السلام) نے بھی ان کے بےوقت اور بغیر اجازت آنے کو ایک موضوع بنا کر ان کا پیچھا نہ کیا بلکہ ان کی جہالت سمجھ کر ان کی اس حرکت سے چشم پوشی اختیار کی اور اس بات کو ایک آزمائش سمجھ کر اپنی عبادت کے گھڑیوں میں مزید اضافہ کردیا اور دنیا جہاں کے بادشاہوں اور وڈیروں کو اپنے اسوہ حسنہ سے یہ سبق دیا کہ جاہلوں سے الجھنے کی بجائے ان کی جہالت سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس کو بحث کا موضوع نہ بنانا ہی ایک اچھا عمل ہے اور دوسروں کی جہالت سے اپنی عقل و دانش میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے لیکن اس وقت جب کوئی آدمی جاہلوں الجھنے کی بجائے وہاں سے سلامتی کے ساتھ گزر جائے اور جہالت کا جواب جہالت سے نہیں بلکہ فہم وادراک سے دے اور جب یہ مہتہم بالشان کام کرچکے تو اپنے مولا کریم کے سامنے گڑ گڑائے کہ اے اللہ ! تو نے میری راہنمائی کی اور اس کی جہالت کا جواب جہالت کے ساتے دینے سے مجھے بچالیا اگر تیرا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں اس جہالت میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ اور یاہ کا قصہ اسرائیلیات سے ہی اس کا اسلامی روایات سے کوئی تعلق نہٰں اور ہمارے مفسرین نے اس کو تورات سے اٹھا کر جو اس جگہ بیان کیا تو ممکن ہے کہ ان کا خیال تورات کی تحریف کا اظہار کرنا ہی تھی یا کوئی اور باعث ہوا بہرحال اسلامی روایات اس سے بالکل پاک ہیں اور علمائے محققین نے اس کا کھل کر رد بھی کردیا ہے ہم نے ان ساری باتوں کی وضاحت دائود (علیہ السلام) کی سرگزشت میں بیان کردی ہے اور دائود (علیہ السلام) کی سرگزشت عروۃ الوثقی جلد ششم میں سورة الانبیاء کی آیت 82 کے بعد۔
Top