Tafseer-e-Baghwi - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
34، ولقد فتنا سلیمان ، ہم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جانچ کی اور امتحان لیا اور اس واقعہ کا سبب وہ ہے جس کو محمد بن اسحاق نے وہب کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا امتحان بغوی نے لکھا ہے کہ محمد اسحاق نے وہب بن منبہ کی روایت سے بیان کیا، وہب نے کہا : حضرت سلیمان نے سنا کہ سمندر میں کوئی جزیرہ ہے جس کا نام صیدون ہے، وہاں کا ایک بڑا بادشاہ ہے۔ جزیرہ کا محل وقوع چونکہ سمندر میں ہے اس لیے کوئی شخص صیدون تک نہیں پہنچتا (اور بادشاہ آزاد ہے ، کسی کاتابع نہیں) اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو وہ حکومت عطاکی تھی کہ ان کی حکومت سے بحروبر میں کوئی چیز باہر نہیں تھی ۔ آپ ہواپر سوار ہوکر ہر جگہ پہنچ جاتے تھے، یہ اطلاع ملنے کے بعد آپ ہواپر سوارہوکر اس شہر کی طرف روانہ ہوگئے اور جن وانس کے لشکر سمیت وہاں پہنچ کر اتر گئے، بادشاہ کو قتل کیا اور جزیرہ میں جو کچھ تھا، اس پر بطورمال غنیمت قبضہ کرلیا۔ من جملہ دیگر اشیاء کے آپ کو وہاں بادشاہ کی ایک لڑکی بھی ملی جس کو جرادہ کہاجاتا تھا، ایسی حسین و جمیل لڑکی کسی نے نہیں دیکھی ۔ آپ نے اپنے لیے اس کا انتخاب کرلیا۔ اول اس کو دعوت اسلام دی، وہ ناگواری خاطر کے ساتھ مسلمان ہوگئی، آپ نے اس سے نکاح کرلیا ۔ آپ کو اس سے اتنی محبت ہوگئی کہ اور کسی بیوی سے نہیں تھی۔ وہ لڑکی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس اتنے مرتبہ پر پہنچنے کے بعد بھی ہمیشہ غمگین رہتی، اس کا آنسو نہیں رکتا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے یہ بات تکلیف وہ تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا : اس کی کیا وجہ کہ تیراغم دور نہیں ہوتا اور آنسو نہیں تھمتے ؟ کہنے لگی : مجھے اپنے باپ کی ، اس کی حکومت کی اور اس پر جو مصیبت پڑی اس کی یاد آتی ہے جو مجھے غمگین بنائے رکھتی ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا، اس کے عوض تو اللہ نے تجھے وہ ملک عطاکردیاجو اس کے ملک سے بڑا ہے اور ایسی حکومت عنایت کردی جو اس کی حکومت سے عظیم ہے اور مسلمان ہوجانے کی تجھے توفیق دی جو سب سے بہتر (نعمت) ہے۔ وہ کہنے لگی : ہاں ! یہ تو سب کچھ ہے، پھر بھی مجھے جب باپ کی یادآتی ہے تو وہ غم چھاجاتا ہے جو آپ دیکھتے ہی ہیں۔ اگر آپ حکم دے کر جنات سے اس مکان کے اندرجس میں میں رہتی ہوں ، میرے باپ کی مورتی بنوادیں اور میں صبح وشام اس کو دیکھتی رہوں تو امید ہے کہ میراغم دور ہوجائے گا اور میرے دل کو کچھ تسلی ہوگی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنات کو حکم دیا کہ اس کے باپ کی ایک مورتی اس کے گھر کے اندربنادو، کوئی فرق نہ ہو، جنات نے ایسی مورتی بنادی۔ اس عورت نے دیکھ لیا کہ بعینہ یہ اس کا باپ ہے۔ فقط اتنی بات ہے کہ اس میں جان نہیں ہے۔ پھر اس کو کرتہ پہنایا، صافہ باندھا اور چادراوڑ ھادی اور ویسے ہی کپڑے پہنا دیئے جو وہ (اپنی زندگی میں) پہنا کرتا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب اس کے گھر سے باہر نکل جاتے تو وہ صبح وشام اپنی لونڈیوں اور باندیوں کو ساتھ لے کرمورتی کے پاس جاتی اور جیسا باپ کی زندگی میں اس کا دستور تھا، اسی کے مطابق مورتی کو خودبھی سجدہ کرتی اور باندیاں بھی اس کے ساتھ سجدہ کرتیں ۔ چالیس روزتک حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا کوئی علم نہ ہوا۔ آصف بن برخیاکواس کی اطلاع مل گئی ، آپ حضرت سلیمان (علیہ السلام ) کے گہرے دوست تھے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دروازے آپ کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے، جس وقت چاہتے ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جس گھر میں چاہتے داخل ہوجاتے ، کوئی آپ کو لوٹا نہیں سکتا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھر میں موجود ہوں یا نہ ہوں ۔ آصف بن برخیا کی آخری تقریر کی تفصیل ایک روز حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے انہوں نے کہا، اے اللہ کے نبی ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں، ہڈیاں ضعیف ہوگئیں، عمرختم ہونے کے قریب آگئی، جانے کا وقت آگیا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے کسی ایک جگہ کھڑاہوکراللہ کے پیغمبروں کا تذکرہ کروں اور اپنی معلومات کے مطابق ان کے اوصاف بیان کروں اور انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق جو بعض باتیں لوگ نہیں جانتے ہیں ان کو بتاؤں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا :(جیسا چاہو) کرو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے آصف کی تقریرسنے کے لیے لوگوں کو جمع کردیا۔ آصف تقریر کرنے کھڑے ہوگئے۔ گزشتہ انبیاء کا ذکر کیا، ہر نبی کے خصوصی اوصاف جو اس میں تھے بیان کیے اور جو فضیلت اللہ نے اس کو (خاص طور پر) دی تھی، وہ ظاہر کی۔ تقریر کرتے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تذکرے پر آئے توکہا، آپ بچپن میں بڑے عقل مند، حلیم بڑے پرہیزگا اور بڑے پر حکمت حکم دینے والے تھے اور چھوٹی عمر میں ہرامرمکروہ سے بہت دور تھے۔ یہ کہہ کر تقریر ختم کردی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو آصف بن برخیا کی طرف سے گھر میں ہونیوالے واقعہ کی تفصیل حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : آصف ! تم نے گزشتہ انبیاء کا تذکرہ کیا اور ہر عمر کے ان کے اچھے اوصاف بیان کیے لیکن جب میراتذکرہ کیا تو چھوٹی عمر کے میرے اچھے اوصاف تم نے بیان کیے اور بڑے ہونے کے بعد جو میرے اوصاف تھے، ان کی طرف سے خاموشی اختیار کرلی۔ آخر بڑاہوکر میں نے کون سی نئی بات کرلی ؟ حقیقت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے آصف کی تقریر کو برا محسوس کیا، اتنا کہ غصہ سے بھر گئے اور گھرجاکرآصف کو بلواکریہ بات کہی ۔ آصف نے جواب دیا : ایک عورت کی محبت کی وجہ سے آپ کے گھرکے اندر چالیس روز سے صبح کو اللہ کے سوادوسرے کی پوجا ہورہی ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا ، کیا میرے گھر میں ؟ آصف نے کہا (ہاں) آپ کے گھر میں ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون ، میں تو جانتاہی تھا کہ تم نے جو کچھ کہاوہ بےوجہ نہیں کہا، یقینا تم کو کوئی اطلاع ملی ہے۔ پھر آپ اس عورت کے گھر میں گئے، بت کو توڑا، عورت کو سخت سزادی اور اپنا لباس اتار کر دوسرے کپڑے پہنے جن کا سوت صرف دوشیزہ (نابالغ، معصوم) لڑکیوں نے کاتا تھا اور دوشیزہ لڑکیوں نے ہی بنا تھا، کسی بالغہ نے چھوابھی نہ تھا۔ یہ لباس پہن کر تنہا جنگل کو نکل گئے، وہاں چولہے کی راکھ کا بستر بچھوایا، پھر توبہ کرنے کے لیے اس خاکی بسترپر بیٹھے اور کپڑوں سمیت اس پر لوٹے، اللہ کے سامنے گڑگڑائے اور زاری کی ، دعا کرتے رہے، روتے رہے اور جو کچھ گھر میں ہوا اس کی معافی مانگتے رہے۔ شام تک اسی میں مشغول رہے، شام ہوگئی توگھرواپس آگئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی کا شیطان لے جانا اور چالیس دن تک حکومت پر قابض رہنا آپ کی ایک ام ولد (وہ باندی جو بچہ کی ماں ہوگئی، آقا کی کوئی اولاد اس کے پیٹ سے ہوگئی) تھی جس کو امینہ کہاجاتا تھا۔ آپ بیت الخلاء جاتے یا کسی بی بی سے قربت صنفی کرنے کا ارادہ کرتے تو اپنی مہرامینہ کے پاس رکھ دیتے تھے اور جب تک ضرورت سے فراغت کے بعد بالکل پاک نہ ہوجاتے، مہرکوہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے۔ اسی مہر سے آپ کی حکومت وابستہ تھی۔ ایک روزامینہ کے پاس مہررکھ کر بیت الخلاء کو چلے گئے ۔ آپ کے جانے کے بعد سمندری شیطان جس کا نام صخر تھا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں امینہ کے پاس آیا اور مہرطلب کی ۔ امینہ نے اس شکل میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل سے کوئی غیریت محسوس نہیں کی اور سلیمان (علیہ السلام) سمجھ کرمہردے دی۔ صخرنے وہ مہر اپنے ہاتھ مین پہن لی اور باہرجاکرحضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر بیٹھ گیا اور سارے پرندے، جنات اور انسان اس کے پاس آکر (حسب معمول) جمع ہوگئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بیت الخلاء سے نکل کر امینہ کے پاس پہنچے اور کہا : امینہ ! میری انگوٹھی لاؤ، چونکہ ہر دیکھنے والے کو آپ کی حالت اور ہیئت بدلی ہوئی دکھائی دیتی ، اس لیے امینہ بھی نہ پہچان سکی اور بولی، تو کون ہے ؟ آپ نے فرمایا، میں سلیمان بن داؤد ہوں۔ امینہ نے کہا : تو جھوٹا ہے، ابھی سلیمان (علیہ السلام) میرے پاس آکرمہرلے کرگئے ہیں اور تخت حکومت پر اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ گناہ کا وبال آپہنچا۔ آپ بنی اسرائیل کے گھروں پر جاتے اور خانہ بخانہ چکر لگاتے اور کہتے کہ میں سلیمان بن داؤد ہوں لیکن لوگ (دیوانہ سمجھ کر) آپ کے اوپرمٹی ڈالتے اور گالیاں دیتے اور کہتے ، اس دیوانہ کو ذرادیکھو، کیا کہتا ہے ؟ اپنے کو سلیمان سمجھتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ حالات دیکھے تو سمندر کی طرف چلے گئے اور دریا کے ٹھیکیداروں کی مچھلیاں اپنے اوپر لادکربازار تک پہنچاتے اور صاحب مال آپ کو روزانہ دومچھلیاں مزدوری میں دے دیتا تھا۔ شام ہوتی تو آپ ایک مچھلی فروخت کرکے روٹیاں لے لیتے اور دوسری مچھلی بھون لیتے۔ چالیس روزاسی حالت میں رہے۔ چالیس ہی دنوں تک آپ کے گھر کے اندربت کی پوجاہوئی تھی۔ آصف اور دوسرے علماء بنی اسرائیل نے دشمن خدا کے احکام کو اس چلہ میں پہلے کے مقابلہ میں کچھ بدلا ہوا محسوس کیا۔ اس لیے آصف نے کہا : اے گروہ بنی اسرائیل ! کیا تم نے بھی ابن داؤد کے احکام کو کچھ پہلے کے مقابلے میں بدلا ہوا محسوس کیا جیسا میں محسوس کررہاہوں ؟ علماء نے کہا، جی ہاں ۔ کیا تم تو اتنا تو قف کرو کہ میں سلیمان (علیہ السلام) کی بیوی سے جاکرپوچھ لوں کہ کیا انہوں نے بھی اندرونی حالت میں کچھ تغیر محسوس کیا ہے۔ جیسا کہ ہم بیرونی عام حالت میں محسوس کررہے ہیں ؟ چناچہ آصف عورتوں نے جواب دیا، اس سے بھی زیادہ، وہ توہم میں سے کسی عورت کو خون کی حالت میں بھی نہیں چھوڑتا اور غسل جنابت بھی نہیں کرتا۔ آصف نے کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون، بلاشبہ یہ کھلی ہوئی سخت آز مائشی مصیبت ہے۔ آصف نے واپس آکر بنی اسرائیل ہے کہہ دیا کہ خاص احوال تو عام حالات سے بھی بڑھ کر ہیں۔ چالیس روز گزر گئے تو شیطان مردوداپنی جگہ سے اٹھ کردریاپر گیا اور دریا میں مہر پھینک دی جس کو ایک مچھلی نے نگل لیا اور کسی شکاری نے وہ مچھلی پکڑلی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دن کے ابتدائی حصہ میں (حسب معمول) اپنا کام کیا، شام ہوئی تو شکاری نے آپ کو ایک (معمولی) مچھلی دے دی اور دوسری وہ مچھلی جس کے پیٹ میں مہر تھی کے پیٹ میں مہر تھی ، دے دی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) دونوں مچھلیاں لے کر آگئے۔ معمولی مچھلی کے بدلے توروٹیاں لے لیں اور جس مچھلی کے پیٹ میں مہر تھی، اس کا بھوننے کے لیے پیٹ چاک کیا۔ پیٹ کے اندر سے مہرنکلی، آپ نے مہرلے کر ہاتھ میں پہن لی اور سجدہ میں گرگئے۔ اس کے بعد پرندے اور جنات آپ کے پاس آکر جمع ہوگئے اور آدمی بھی آپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ جو مصیبت ان پر آئی تھی یہ اسی بات کی پاداش میں تھی جو ان کے گھر کے اندرہوئی تھی۔ غرض آپ کو حکومت واپس مل گئی اور آپ نے اپنے گناہ سے علی الا علان تو بہ کی اور جنات کو حکم دیا کہ صخر کو پکڑکرلاؤ۔ شیاطین نے اس کو ڈھونڈنکالا اور پکڑکر حاضر کردیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پتھر کی ایک چٹان میں شگاف کرکے صخر کو اس میں بندکرکے اوپر سے ایک چٹان اور رکھ کرلو ہے اور رانگ سے اس کی مضبوط بندش کردی۔ پھر سمندر میں پھینک دینے کا حکم دے دیا۔ یہ ساراوہب کا بیان ہے۔ سدی کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سرگذشت کا سبب یہ تھا کہ آپ کی سو (100) بیبیاں تھیں، ان میں سے ایک کا نام جرادہ تھا۔ جراد ہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نظر میں سب سے زیادہ چہیتی اور سب سے پکی امانت دار تھی۔ آپ جب ضرورت کو جاتے تو اسی کے پاس مہررکھ دیا کرتے تھے۔ ایک دن جرادہ نے آپ سے کہا : میرے بھائی اور فلاں شخص کے درمیان کچھ جھگڑا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میرابھائی جب آپ کے پاس آئے تو آپ اس کے حق میں ڈگری دے دیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا، اچھا (آپ نے وعدہ کرلیا) لیکن کیا نہیں ۔ اس قول پر ہی آپ مبتلاء آزمائش کردیئے گئے۔ غرض ایک روز مہرجرادہ کودے کر بیت الخلاء کو چلے گئے۔ آپ کے پیچھے شیطان (یعنی کوئی جن ) آپ کی صورت بناکرآیا اور جرادہ سے مہرلے گیا اور جاکرحضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر بیٹھ گیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب بیت ا (رح) لخلاء سے ائے اور جرادہ سے مہرطلب کی تو اس نے کہا : کیا آپ نے ابھی لے نہیں لی تھی ؟ آپ نے کہا : نہیں ۔ پھر آپ یہاں سے نکل کر کہیں اپنے مقام پر چلے گئے اور چالیس روزتک شیطان لوگوں پر حکومت کرتارہا۔ لوگوں نے اس کے احکام کو (حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے احکام سے) بدلا ہوا محسوس کیا تو بنی اسرائیل کے علماء اور قراء آپ کی بیویوں کے پاس گئے اور ان سے کہ اہم کو احکام سلیمانی سے اس کے احکام غیرنظر آتے ہیں۔ اگر یہ سلیمان ہے تو یقینا اس کی عقل جاتی رہی ہے، عورتیں رونے لگیں۔ علماء اور قراء چلے آئے اور آکر تو ریت کھول کر اس کی تلاوت میں مشغول ہوگئے ۔ شیطان نے جو یہ دیکھا تو ان کے سامنے اڑکرروشندان میں جاپڑا، مہراس کے پاس ہی رہی ، پھر وہاں سے اڑکر سمند رکی طرف چلا گیا۔ مہراس کے ہاتھ سے سمندر میں گرگئی جس کو ایک مچھلی نے نگل لیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی شکاریوں کے پاس پہنچ گئے تھے اور بہت سخت بھوکے تھے۔ اس لیے ایک شکاری سے اس کے شکار کی ایک مچھلی کھانے کے لیے مانگی اور کہا، میں سلیمان ہوں۔ یہ بات سن کر ایک شکاری نے اٹھ کر آپ کے لاٹھی ماری اور سر پھاڑدیا۔ آپ سمند رکے کنارے بیٹھے خون دھونے لگے۔ دوسرے شکاریوں نے مارنے والے کو ملامت کی اور جو مچھلیاں پکڑی تھیں ان میں سے دومچھلیاں آپ کودے دیں۔ آپ نے دونوں کاپیٹ چاک کیا اور دھونے لگے۔ ایک مچھلی کے اندر سے آپ کو اپنی مہرمل گئی اور آپ نے اس کو پہن لیا۔ اس طرح اللہ نے آپ کو حکومت اور شان و شوکت واپس دے دی اور پرندے آپ کے گردگھومنے لگے۔ اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ سلیمان یہ ہیں اور اپنی حرکت کی معذرت کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا : نہ میں تمہاری اس معذرت کی تعریف کرتاہوں نہ تمہارے فعل پر تمہیں ملامت کرتاہوں ، یہ تو ہونا ہی تھا۔ اس کے بعد اپنی حکومت پر آگئے اور جس شیطان نے مہر اڑائی تھی اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ وہ گرفتاردیا۔ وہ گرفتارہوکر آگیا تو آپ نے لوہے کے ایک صندوق کو بندکرکے صندوق کو مقفل کرکے اس پر اپنی مہرلگا کر سمندر میں پھینگوادیا۔ آج تک وہ اسی حالت میں ہے اور زندہ بھی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) فتنہ میں پڑگئے تو مہران کے ہاتھ سے نکل کرگرگئی۔ آپ نے دوبارہ ہاتھ میں ڈالی، تب نکل کر گرگئی اور چونکہ آپ کی حکومت انگوٹھی سے ہی وابستہ تھی اس لیے آپ کو مصیبت کا یقین ہوگیا۔ اتنے میں آصف آگئے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہنے لگے، آپ اپنے قصور کی وجہ سے آمائش میں پھنس گئے ۔ یہ مہر آپ کے ہاتھ میں 14 روز تک نہیں رکے گی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے تہہ خانے میں بھاگ کر چلے گئے اور آصف نے انگوٹھی اٹھا کر اپنی انگلی میں پہن لی تو انگوٹھی رک گئی (انگلی سے نکل کرنیچے نہیں گری) آیت، والقینا علی کرسیہ جسدا، میں جسد سے یہی مراد ہے۔ (یعنی جسد سے مراد ہیں آصف) آصف 14 روزتک حکومت پر قائم رہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی کے طریقہ پر حکومت کرتے رہے۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حکومت لوٹا کر عطافرمادی اور وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور دوبارہ اپنی انگوٹھی ہاتھ میں پہن لی۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) تین روزتک لوگوں سے پردے میں رہے (کسی سے ملاقات کو نہیں آئے نہ سامنے آئے) اللہ نے وحی بھیجی اور فرمایا، تم تین روز لوگوں سے پردے میں رہو اور میرے بندوں کو معاملات پر نظر نہیں کی (اس لغزش پر) اللہ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا۔ اس سے آگے سعید نے مہرکاقصہ اور شیطان کے اس پر قبضہ کرلینے کا ذکر کیا ہے۔ حسن نے کہا : اللہ ایسانہ تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) کی بیبیوں پر شیطان کو مسلط کردیتا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ ایک رات میں اپنی تمام بیویوں سے مجامعت کروں گا۔ ہر ایک عورت بیٹالائے گی تو میں اس کو جہاد کے لیے بھیج دوں گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تمام بیویوں کے ساتھ مجامعت کی تو ان تمام بیویوں میں سے صرف ایک نے ناتمام بچہ جنا اور اس کو کرسی میں ڈال دیا۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا، والقینا علی کرسیہ جسدا، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں ایک رات تمام بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر ایک شاہ سوارلائے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھی نے کہا کہ آپ ان شاء اللہ کہہ دیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان شاء اللہ نہیں کہا اور بھول گئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سب بیویوں کے پاس گئے، ان سب میں سے صرف ایک ہی کو حمل ہواجونا تمام بچہ تھا، اللہ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر وہ ان شاء اللہ کہہ دیتے تو وہ سب اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔ حضرت ابوہر یرہ ؓ سے طاؤس روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنی سوبیویوں سے مجامعت کروں گا۔ فرشتے نے ان سے کہا کہ آپ ان شاء اللہ کہہ دیں لیکن انہوں نے ان شاء اللہ نہیں کہا اور بھول گئے۔ مشہور قصوں میں مشہور ہے وہ جسد جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی پر ڈالا گیا تھا وہ دراصل جن تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، والقینا علی کرسیہ جسداثم اناب، ان کو اپنی بادشاہت چالیس دنوں کے بعد ملی۔
Top