Dure-Mansoor - Saad : 19
وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَالطَّيْرَ : اور پرندے مَحْشُوْرَةً ۭ : اکٹھے کیے ہوئے كُلٌّ : سب لَّهٗٓ : اس کی طرف اَوَّابٌ : رجوع کرنے والے
اور پرندوں کو مسخر کردیا جو جمع کئے ہوئے تھے سب اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے
1:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والطیر محشورہ “ (اور پرندے جمع کئے ہوئے) یعنی آپ کے لئے مسخر کردیئے گئے (آیت ) ” کل لہ اواب “ (سب ان کے ساتھ ذکر میں مشغول ہوئے تھے) اواب کا معنی ہے مطیع (آیت ) ” وشددنا ملکہ واتینہ الحکمۃ “ (اور ہم نے ان کو سلطنت کی بڑی قوت دی تھی اور ہم نے ان کو حکمت دی تھی) حکمت کا معنی ہے سنت (آیت ) ” وفصل الخطاب “ (اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطا کی تھی) سے مراد ہے کہ گواہ طالب پر اور قسم مطلوب پر۔ 2:۔ عبد بن حمید وحاکم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشددنا ملکہ “ (ہم نے اس کی سلطنت کو بڑی قوت دی تھی) یعنی وہ دنیا کے بادشاہوں میں سے اللہ تعالیٰ کے لئے دلیل کے اعتبار سے سب سے قوی تھے (آیت ) ” واتینہ الحکمۃ وفصل الخطاب “ یعنی جو بات بھی کی اس کو نافذ کردیا اور فیصلہ کرنے میں انصاف کیا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی نے داؤد (علیہ السلام) کے پاس دعوی کیا کہ فلاں نے اس کا لڑکا مار ڈالا اور انہوں نے اس آدمی سے سوال تو اس نے اس بات کا انکار کردیا پھر دوسرے سے گواہ طلب کئے۔ تو اس کے پاس کوئی گواہ نہ تھا ان دونوں سے داوؤ (علیہ السلام) نے فرمایا تم دونوں چلے جاؤ یہاں تک کہ میں تمہارے معاملے میں غور وفکر کروں وہ دونوں ان کے پاس سے اٹھ گئے، داؤد (علیہ السلام) کو خواب آیا اور ان سے کہا گیا اس آدمی کو قتل کردو جس نے مدد طلب کی ہے۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا یہ خواب ہے اور میں جلدی نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں اس معاملے کو پوری طرح جان لوں پھر دوسری رات بھی آپ کو خواب آیا تو ان سے کہا گیا اس آدمی کو قتل کردو تو انہوں نے ایسا نہ کیا پھر تیسری رات خواب آیا تو اس سے کہا گیا اس آدمی کو قتل کردو ورنہ اللہ کی جانب سے آپ کو سزادی جائے گی۔ داؤد (علیہ السلام) نے اس آدمی کی طرف پیغام بھیجا۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تجھ کو قتل کردوں تو اس نے کہا مجھے آپ بغیر گواہ اور بغیر دلیل کے قتل کریں گے۔ ہاں ! اللہ کی قسم میں ضرور اللہ کا حکم نافذ کروں گا تیرے میں اس آدمی نے ان سے کہا مجھ پر جلدی نہ کیجئے۔ یہاں تک کہ میں آپ کو بتادوں میں نے اس گناہ کو نہیں کیا لیکن میں نے اس کے باپ کو دھوکہ دے کر اچانک قتل کردیا تھا۔ اس وجہ سے میں پکڑا گیا۔ داؤد (علیہ السلام) نے حکم فرمایا اور اس کو قتل کردیا گیا (اس واقعہ سے) بنی اسرائیل میں بہت خوف ہوا اور آپ کی حکومت بڑی مستحکم ہوگئی۔ 4:۔ ابن جریر وحاکم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” وشددنا ملکہ “ سے مراد ہے کہ ہر دن اور رات چار ہزار سپاہی آپ کی حفاظت کرتے تھے۔ (آیت ) ” اتینہ الحکمۃ “ یعنی ہم نے اس کو نبوت دی۔ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ یعنی ان کو علم الفظاء عطا فرمایا۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتینہ الحکمۃ “ سے مراد ہے کہ ان کو فہم عطا کیا گیا۔ 6:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتینہ الحکمۃ “ میں ” الحکمۃ “ سے مراد ہے درست (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے ایمان اور گواہ مراد ہیں۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے درست فیصلہ کرنے اور اس کی ہے۔ 8:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابو عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے فیصلہ کرنے والا سلیقہ۔ 9:۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے فیصلہ کرنے میں سمجھدار ی۔ 10:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) و بیہقی (رح) نے شریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے گواہ اور ایمان۔ 11:۔ بیہقی (رح) نے ابو عبدالرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کو فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ اس سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اگر آپ ان سے میرے نام کے ساتھ قسم لیں اور ان سے گواہوں کا پوچھیں یہی (آیت ) ” وفصل الخطاب “ ہے۔ 12:۔ ابن جریر (رح) وبہیقی (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے کہ دعوی کرنے والے پر گواہ ہیں اور جس پر دعوی کیا گیا اس پر قسم ہے۔ 13:۔ ابن جریر (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ سے مراد ہے آدمی کا امابعد کہنا۔ 14:۔ ابن ابی حاتم اور دیلمی نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے داؤد (علیہ السلام) نے امابعد فرمایا اور یہی (آیت ) ” وفصل الخطاب “ ہے۔ 15:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن سعد وعبد بن حمید وابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے زیادہ بن ابی سفیان کو یہ کہتے ہوئے کہ (آیت ) ” وفصل الخطاب “ جو داؤد (علیہ السلام) کو دیا گیا وہ امابعد ہے۔
Top