Tafseer-e-Mazhari - Saad : 19
وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَالطَّيْرَ : اور پرندے مَحْشُوْرَةً ۭ : اکٹھے کیے ہوئے كُلٌّ : سب لَّهٗٓ : اس کی طرف اَوَّابٌ : رجوع کرنے والے
اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے۔ سب ان کے فرمانبردار تھے
والطیر محشورۃ اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی جو (تسبیح کے وقت ان کے پاس) جمع کر دئیے جاتے تھے۔ یعنی ہر طرف سے پرندے بھی جمع ہو کر حضرت داؤد کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ کل لہ اواب سب (پہاڑ اور پرندے ان کی تسبیح کے وقت) ان کے ساتھ ذکر میں مشغول ہوتے تھے۔ یعنی ان کی تسبیح کی وجہ سے وہ بھی تسبیح خداوندی کی طرف لوٹتے تھے۔ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ کا ظاہر مطلب یہ ہے کہ حضرت داؤد کے ساتھ اور ان کی موافقت و معیت میں پہاڑ تسبیح کرتے تھے اور لہٗ اوّابٌ کا مطلب یہ ہے کہ تسبیح میں برابر مشغول رہتے تھے۔
Top