Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Dure-Mansoor - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ
: اور
مَا خَلَقْنَا
: نہیں پیدا کیا ہم نے
السَّمَآءَ
: اور زمین
وَالْاَرْضَ
: اور زمین
وَمَا
: اور جو
بَيْنَهُمَا
: ان کے درمیان
بَاطِلًا ۭ
: باطل
ذٰلِكَ
: یہ
ظَنُّ
: گمان
الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ
: جن لوگوں نے کفر کیا
فَوَيْلٌ
: پس خرابی ہے
لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا
: ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر)
مِنَ
: سے
النَّارِ
: آگ
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بلاحکمت پیدا نہیں کیا یہ گمان ہے ان لوگوں کا جنہوں نے کفر کیا، سو ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے یعنی دوزخ کا داخلہ ہے
1:۔ ثعلبی (رح) نے عوام بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ مجھے میری قوم میں سے ایک آدمی نے بتایا کہ جس نے عمر ؓ کا زمانہ پایا کہ انہوں نے طلحہ زبیر کعب اور سلمان ؓ سے پوچھا بادشاہ اور خلیفہ کس کو کہا جاتا ہے ؟ طلحہ اور زیبر ؓ نے فرمایا ہم نہیں جانتے سلمان ؓ نے فرمایا : خلیفہ وہ ہوتا ہے جو رعایا میں انصاف کرتا ہے اور ان کے درمیان برابری کے طور پر تقسیم کرتا ہے اور ان پر شفقت کرتا ہے (جیسے) آدمی کی شفقت اپنے اہل و عیال پر اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ کعب ؓ نے فرمایا میرا یہ خیال تھا کہ کوئی بھی خلیفہ اور بادشاہ میں فرق نہیں جانتا میرے علاوہ۔ اللہ تعالیٰ کا خلیفہ انصاف کرتا ہے : 2:۔ ابن سعد نے ابن مردویہ کے طریق سے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے ان سے فرمایا : میں بادشاہ یا خلیفہ ہوں سلمان ؓ نے ان سے فرمایا خلیفہ وہ ہوتا ہے جو انصاف کرتا ہے اگر تو نے مسلمان کی زمین سے ایک درہم اس سے کم یا اس سے زیادہ حاصل کیا پھر اسے بےمحل خرچ کیا تو تو بادشاہ ہے خلیفہ نہیں ہے (یہ سن کر) عمر ؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ 3:۔ ابن سعد نے ابن ابی العرجاء (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ ہوں کہنے والے نے کہا : اے امیر المومنین ! ان دونوں کے درمیان فرق ہے پوچھا وہ کیا ہے اس نے کہا کہ خلیفہ ناحق کوئی چیز نہیں لیتا اور نہ ناحق خرچ کرتا ہے۔ اور آپ الحمد للہ اسی طرح ہیں۔ اور بادشاہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے اس سے چھینتا ہے اور اس کو نہیں دیتا ہے۔ 4:۔ ابن سعد نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ امارت وہ ہوتی ہے جو مشورہ سے حاصل ہو اور بادشاہت یہ ہوتی ہے کہ جس پر وہ تلوار کے ساتھ غلبہ پالے۔ خلافت کے لئے انصاف لازم ہے : 5:۔ ثعلبی (رح) نے معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے جب منبر پر بیٹھتے اے لوگو ! کہ خلافت مال جمع کرنے کا نام لیکن خلافت نام ہے حق کے ساتھ عمل کرنا اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا، اور اللہ کے حکم کے مطابق لوگوں سے مال لینا۔ 6:۔ حکیم ترمذی (رح) نے ابو جعفر کے غلام سالم سے روایت کیا کہ ہم امیر المومنین ! ابو جعفر (رح) کے ساتھ بیت المقدس کی طرف نکلے جب داخل ہوئے اور مشکل پیش آئی تو اوزاعی (رح) کو بلوایا وہ آئے تو فرمایا اے امیر المومنین ! مجھ سے بیان کیا حسان بن عطیہ (رح) نے اپنے دادا ابن عباس ؓ سے روایت کیا اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں (آیت ) ” یداؤد انا جعلنک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ۔ فرمایا جب تیری طرف دو جھگڑنے والے جھگڑا لے آئیں اور ان میں سے ایک کے بارے میں نفس کا میلان ہو جبکہ تو اپنے دل میں اس کے لئے حق نہ پاتا ہو تو اس طرح وہ کامیاب ہوجاتا ہے اپنے ساتھی پر (اگر تو ایسا کرے) تو اپنا نام میرے نبوت سے مٹا دیتا پھر میرا خلیفہ ظاہر نہ کرنا اور نہ تیری کوئی قدرومنزلت ہوگی، اے امیر المومنین ! حسان بن عطیہ نے ہم کو تیرے دادا سے بیان کیا جس نے حق کو ناپسند کیا تو یقینی طور پر اللہ تعالیٰ نے اس کو ناپسند کیا کیونکہ حق تو اللہ ہی ہے۔ اے امیر المومنین ! مجھ کو حسان بن عطیہ تیرے دادا سے بیان کیا اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ “ (الکہف آیت 49) کے بارے میں فرمایا کہ ” الصیغرہ “ سے مراد تبسم کرنا اور کبیرہ سے مراد ہے زور سے ہنسنا کیسے ہوگا جو ہاتھوں نے جنایتیں کی ہیں 7:۔ ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاحکم بین الناس بالحق “ (ان لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیجئے) یعنی عدل و انصاف کے ساتھ (آیت ) ” ولا تتبع الھوی “ (اور خواہش کی پیروی نہ کیجئے) اور اپنی خواہش کو ترجیح نہ دو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے وقت حق اور انصاف پر پھر تو منحرف ہوجائے گا حق سے اور یہ چیز تجھ کو گمراہ کردے گی راہ راست سے۔ 8:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لھم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب “ (ان کے لئے سخت عذاب ہے) اس وجہ سے کہ وہ حساب کے دن کو بھول گئے، اس میں تقدیم تاخیر اللہ تعالیٰ حساب کے دن ان کے لئے کہیں گے کہ (تمہارے لئے) سخت عذاب ہے جو تم بھول گئے تھے (اس دن کو) 9:۔ احمد نے الزھد میں ابوالسلیل (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) مسجد میں داخل ہوتے تھے بنی اسرائیل میں سے ایک ایسے حلقہ کو دیکھتے تھے جس سے چشم پوشی کی جاتی ہے (یعنی مسکینوں کے حلقہ) پھر فرماتے ایک مسکین سے مسکینوں کے درمیان۔ 10:۔ احمد نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے بیٹے فوت ہوگئے جس پر داؤد (علیہ السلام) کو بہت دکھ ہوا آپ سے کہا گیا آپ کے نزدیک بیٹے کے برابر کیا چیز تھی ؟ فرمایا میرے نزدیک وہ زیادہ محبوب تھا زمین پھر سونے سے بھی ان سے کہا گیا بلاشبہ اجر بھی اسی کے بعد ہوگا۔ 11:۔ عبداللہ نے اپنی زوائد میں والحکیم ترمذی (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کی یہ دعا تھی : سبحان مستخرج الشکر بالعطاء مستخرج الدعاء بالبلاء : ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جو عطا کے بدلے شکر اور مصیبت کے بدلے دعا کا تقاضا کرتی ہے۔ 12:۔ عبداللہ نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کیا میں تجھ کو دو علم ایسے نہ سکھاؤں جب تک ان دونوں پر عمل کرے گا تو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا اور تو ان دونوں کے ذریعہ میری رضا کو پالے گا۔ عرض کیا کیوں نہیں اے میرے رب ! ضرور سکھائیے) فرمایا جو میرے اور تیرے درمیان معاملات میں ان کو تقوی کے ساتھ محفوظ کر۔ اور لوگوں سے میل جول رکھ ان کے اخلاق کے مطابق۔ 13:۔ احمد نے یزید بن منصور (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا خبردار ذکر کرنے والا اللہ کے لئے پس تو ذکر کر اس کے ساتھ خبردار ! وعظ و نصیحت کرنے والا یا یاد کرنے والا تو اس کے ساتھ یاد کر۔ 14:۔ احمد نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کھجور کے پتوں سے ٹوکری بناتے تھے اور وہ منبر پر (بیٹھے) ہوئے تھے۔ پھر اس کو بازار کی طرف بھیجتے تھے اس کو بیچتے تھے اور ان کے پیسوں سے کھانا کھاتے تھے۔ 15:۔ احمد نے سعید بن ابی ہلال (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) جب رات کو کھڑے ہوتے تو یوں فرماتے : اللہم نامت العیون و غارت النجوم وانت الحی القیوم الذی لا تاخذک سنۃ ولا نوم : ترجمہ : اے اللہ ! آنکھیں سوگئیں ستارے دور چلے گئے اور زندہ ہے قائم رکھنے والا ہے اور آپ کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ 16:۔ احمد نے عثمان شمام ابوسلمہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھے اہل بصرہ میں سے ایک شیخ نے بیان کیا جو فضیلت والے اور بڑی عمر والے تھے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا۔ اے میرے رب ! میرے لئے کیسے ہوگا ؟ اگر میں آپ کے لئے زمین میں اخلاص کے ساتھ چلوں پھروں اور میں آپ کے لئے عمل کروں، اخلاص کے ساتھ فرمایا : اے داؤد ! محبت کر اس سے جو مجھ سے محبت کرے آیا وہ سرخ ہو یا سفید اور لگا تار تیرے ہونٹ تروتازہ رہیں میری یاد سے اور غیبت کے بچھونے سے دور رہ۔ پوچھا اے میرے رب ! میرے لئے کیسے ممکن ہوگا ؟ فرمایا اہل دنیا میں نیک اور بد کو میرا محبوب بنا دے۔ فرمایا : اے داؤد ! تو دنیا والوں کے لئے ان کی دنیا کی وجہ سے نرمی کر اور آخرت والوں کے لئے ان کی آخرت کی وجہ سے محبت کر اور میرے اور اپنے درمیان اپنے دین کو پسند کر کیونکہ جب تو ایسا کرے گا اور تو ہدایت پر ہوگا تو تجھ کو ضرر نہیں دے گا جو گمراہ ہے جب تو ہدایت پائے گا۔ عرض کیا : اے میرے رب ! مجھ کو اپنی مخلوق میں سے اپنے مہمان دکھائیے وہ کون ہیں فرمایا صاف ہتھلوں والے صاف دل والے سیدھے ہو کر چلیں اور سچی بات کریں۔ 17:۔ خطیب (رح) نے اپنی تاریخ میں یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سلیمان (علیہ السلام) سے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ مصیبت کی سختی کیا ہے ؟ عرض کیا بازار سے روٹی خریدنا اور ایک کے بعد ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف منتقل ہونا۔ 18:۔ احمد نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا (یعنی یوں دعا فرمائی) اللہم اجعل حبک احب الی من نفسی وسمعی وبصری واھلی ومن الماء البارد : ترجمہ : اے اللہ ! بنادے اپنی محبت کو زیادہ محبوب میری طرف میری جان سے اور میرے کانوں سے اور میری آنکھوں سے اور میرے اہل و عیال سے اور ٹھنڈے پانی سے۔ : 19:۔ احمد نے وہب (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے رب تیرے کون سے بندے تیری طرف زیادہ محبوب ہیں ؟ فرمایا مؤمن اچھی صورت والے پھر پوچھا تیرے کون سے بندے تیری طرف زیادہ ناپسند ہیں فرمایا : بدصورت کافر اس مؤمن نجے شکر کیا اور اس کافر نے کفر کیا، پھر پوچھا : اے میرے رب ! تیرے کون سے بندے تجھے زیادہ مبغوض ہیں۔ فرمایا : وہ بندہ جو کسی کام میں مجھ سے خیر کا طالب ہوِ ، میں اس کے لئے خیر پیدا کروں پھر وہ مجھ سے راضی نہ ہو۔ 20:۔ عبداللہ نے اپنی زوائد میں عبداللہ بن ابی ملکیہ (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے خدا ! میرے لئے بدکار ساتھی نہ بنائیے کہ میں کہیں بدکار نہ بن جاؤں۔ 21:۔ احمد نے عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کی دعا میں سے یہ بھی دعا تھی اے اللہ ! مجھے ایسی تنگدستی نہ دے کہ میں بھلادیا جاؤں اور مجھے اتنا مالدار نہ بنا کہ میں سرکش بن جاؤں۔ 22:۔ احمد نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے خدا کون سارزق زیادہ پاکیزہ ہے فرمایا اے داؤد تیرے ہاتھ کا پھل (یعنی تیرے ہاتھ کی کمائی) کبھی بھی اعمال پر فخر کرنا جائز نہیں : 23:۔ احمد نے ابو الجلد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی اے داؤد ! میرے بندے صدیقین کو ڈرایئے۔ کہ وہ اپنے آپ پر فخر کریں گے اور اپنے اعمال پر بھروسہ کریں۔ کیونکہ میرے بندوں میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ میں اس کو حساب کے لئے کھڑا کردوں اور میں اس پر اپنے انصاف کو قائم کردو تو میں اس کو عذاب دوں گا اس پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں گا اور خطا کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے کہ وہ کسی گناہ کو برا خیال نہ کریں کہ میں اس کی مغفرت نہ کروں گا اور اس سے در گزر نہ کروں گا۔ 24:۔ احمد نے ابو الجلد (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے ایک آواز لگانے والے کو حکم فرمایا کہ اس نے آواز لگائی ” الصلاۃ الجامعہ “ لوگ باہر نل کے اور ان کا خیال تھا کہ آج کے دن وعظ و نصیحت تعلیم اور دعا ہوگی۔ جب وہ بیٹھنے کی جگہ پر پہنچے تو صرف یہ کہا اے اللہ ! ہم کو بخش دے اور چلے گئے، بعد میں آنے والے لوگ پہلے آنے والے لوگوں سے ملین اور پوچھا تمہیں کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نبی نے ایک ہی دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کیونکہ انہوں نے تیری دعا کو کم خیال کیا ہے بلاشبہ میں جس کی مغفرت کرتا ہوں تو میں اس کی آخرت اور اس کی دنیا کے معاملے کی اصلاح کردیتا ہوں۔ 25:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) نے عبدالرحمن بن ابزی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) لوگوں میں سے سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے اور ان میں سب سے زیادہ حلم والے تھے اور ان میں سے سب سے زیادہ غصہ کو روکنے والے تھے۔ 26:۔ احمد نے سعید بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب ! میں آپ کے لئے زمین میں کیسے کوشش کرسکتا ہوں اخلاص کے ساتھ فرمایا میرا ذکر کثرت سے کر اور تو اس سے محبت کر جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ سفید ہو یا سیاہ اور تو لوگوں کے لئے فیصلہ کر جیسے تو اپنی ذات کیلئے فیصلے کرتا ہے۔ اور تو غیبت سے بچھونے سے بچ۔ 27:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو عبیداللہ جدلی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے : اللہم انی اعوذبک من جار عینہ ترانی وقلبہ یرعانی ان اری خیرادفنہ وان رای شرا اشاعہ : ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں ایسے پڑوسی کی آنکھ سے کہ وہ مجھ کو دیکھے اور اس کا دل میری طرف متوجہ رہے اگر وہ دیکھے کسی چیز کو تو اس کو دفن کردے (یعنی اس کو چھپا دے) اور اگر کسی شر کو دیکھے تو اس کو پھیلادے۔ 28:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے سعید بن ابی سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کی دعا میں یہ بھی دعا تھی اے اللہ میں آپ سے برے ہمسائے سے پناہ مانگتا ہوں۔ غم اور مصیبت سے پناہ مانگنا : 29:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں ایسے عمل سے جو مجھے رسوا کردے اور اس غم سے جو مجھے ہلاک کردے اور اس فقر سے جو مجھ سے (آپ کو) بھلا دے اور ایسی مالداری سے جو مجھے سرکش بنادے۔ 30:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) نے عبداللہ بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی میرے بندوں سے محبت کر اور مجھے محبوب بنادے میرے بندوں کی طرف عرض کیا اے میرے رب میں محبت کرتا ہوں آپ سے اور میں محبت کرتا ہوں تیرے بندوں سے مگر میں تجھے ان کا کیسے محبوب بنادوں ؟ فرمایا : ان کے پاس میرا ذکر کیا کر کیونکہ ہو میرا ذکر اچھے الفاظ سے ہی کریں گے۔ 31:۔ احمد نے ابو جعد (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے خدا کیا بدلہ ہے جس نے کسی غمگین کو تسلی دی اور وہ آپ کی رضا مندی کا ارادہ کرتا ہے۔ تو فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کو تقوی کا لباس پہناؤں گا۔ پھر پوچھا کیا بدلہ ہے جو جنازہ کے ساتھ چلتا ہے۔ اور صرف آپ کی رضامندی کا ارادہ کرتا ہے ؟ فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ میرے فرشتے اس کو الوداع کریں گے جب وہ مرے گا کہ رحمتیں نازل کروں گا اس کی روح پر روحوں میں سے۔ پھر پوچھا : اے میرے خدا کیا بدلہ ہے جو سہارادے کسی یتیم کو یا کمزور اور محتاج کو اور وہ صرف آپ کی رضامندی کا ارادہ کرتا ہے ؟ فرمایا : اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کو اپنے عرش کے نیچے جگہ دوں گا جس دن اس سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ پھر پوچھا کیا بدلہ ہے کہ جس کی آنکھیں آپ کے خوف سے بہہ پڑیں ؟ فرمایا : اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کو بڑی گھبراہٹ کے دن امن دوں گا اور اس کے چہرے کو جہنم کی لپک سے بچاؤں گا۔ 32:۔ احمد نے ابوالجعد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے داؤد (علیہ السلام) کی دعاؤں میں سے یہ پڑھا کہ انہوں نے فرمایا اے میرے خدا : کیا بدلہ ہے کہ جو کسی غمگین مصیبت زدہ کو تسلی دے آپ کی رضا مندی کو چاہتے ہوئے۔ فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کو ایمان کی چادروں میں سے ایک چادر پہناؤں گا جو اس کو آگ سے پردہ کردے گا۔ اور اس کو جنت میں داخل کروں گا۔ پھر پوچھا کیا بدلہ ہے جو جنازہ کے پیچھے پہنچ جاتا ہے صرف آپ کی رضا مندی کو چاہتے ہوئے ؟ فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ فرشتے اسے قبر تک الوداع کریں گے جس دن وہ مرے گا کہ اس کی روح پر رحمت کروں گا روحوں میں سے پھر پوچھا کیا بدلہ ہے جو یتیم کو اور کسی کمزور و محتاج کو سہارا دے صرف تیری رضا مندی کو چاہتے ہوئے ؟ فرمایا : اس کا بدلہ یہ ہے کہ اس کو میں اپنے عرش کے نیچے جگہ دوں گا جس دن میرے عرش کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ پھر پوچھا : کیا بدلہ ہے جو آپ کے خوف سے رویا یہاں تک کہ اس کے آنسو بہہ پڑے اس کے چہرے پر ؟ فرمایا : اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کے چہرے کو آگ پر حرام کردوں گا اور بڑی گھبراہٹ کے دن اس کو امن دوں گا۔ 33:۔ احمد نے عبد الرحمن بن زہری (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے سلیمان سے فرمایا یتیم کے لئے رحیم باپ کی طرح ہوجا اور تو جان لے کہ جیسے توبوئے گا ویسے ہی کاٹے گا اور تو جان لے کہ قوم کی برائی ایسے ہے جیسے میت کے سرکے پاس گناہ کرنے والا اور تو جان لے کہ نیک عورت اپنے اہل و عیال کے لئے اس بادشاہ کی طرح جس کے سر پر تاج ہو اور اسی پر سونا چڑھا ہوا ہو۔ اور تو جان لے کہ بری عورت اپنے اہل و عیال کے لئے اس کمزور بوڑھے کی طرح ہے جس کی پیٹھ پر بھاری بوجھ ہو اور غنا کے بعد کتنا پسندیدہ ہوتا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ بری چیز گمراہی ہے ہدایت کے بعد اگر تو اپنے ساتھی سے وعدہ کرے تو پورا کر جو تو نے وعدہ کیا ہے اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو اپنے اور اس کے درمیان دشمنی ڈال دے گا اور ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں ایسے ساتھی سے جب تو اسے یاد کرے تو وہ تیری مدد نہ کرے اور جب تو بھول جائے تو وہ تجھ کو یاد نہ کرے۔ 34:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے اے اللہ ایسا مرض نہ دے جو مجھے فنا کردے اور ایسی قوت نہ دے جو مجھے بھلا دے (تیری یاد کرنے سے) لیکن اس کے درمیان رکھ۔ 35:۔ عبداللہ بن زید بن رفیع (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے ایک بڑے بخیل کو دیکھا کہ وہ آسمان و زمین کے درمیان لٹک رہا تھا پوچھا اے میرے رب ؔ ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ میری لعنت ہے میں اس کو ہر ظلم کرنے والے کے گھر میں داخل کرتا ہوں۔ 36:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن ابزی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : قرض پر مدد کرنے والا خوشحال کیا ہی اچھا ہے۔ لمبی عمر اور اچھے عمل والے کو بشارت : 37:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے رب ! میری عمرلمبی ہوگئی اور میرا بڑھاپا زیادہ ہوگیا اور میرے اعضاء کمزور ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی : اے داؤد ! خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جس کی عمر لمبی ہو اور اس کے عمل اچھے ہوں۔ 38:۔ خطیب (رح) نے الاوزاعی کے طریق سے عبداللہ بن عامر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کو خوبصورت آواز دی گئی تھی جو کبھی کسی کو نہیں دی گئی یہاں تک کہ پرندے اور وحشی جانور ان کے اردگرد بیٹھے ہوتے یہاں تک کہ پیاس اور بھوک سے مرجاتے تھے اور نہروں کا پانی تھم گیا : (واللہ اعلم )
Top