Tafseer-Ibne-Abbas - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
(ہم نے کہا زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں)
تو جبریل امین نے ان سے فرمایا اے ایوب اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ انہوں نے مارا تو وہاں سے ایک چشمہ پیدا ہوگیا حضرت جبریل امین نے فرمایا اس سے غسل کرو۔ چناچہ انہوں نے اس سے غسل کیا تو ظاہری بیماری سب ختم ہوگئی تو پھر ان سے فرمایا کہ دوسری مرتبہ زمین پر پیر مارو انہوں نے مارا تو وہاں سے دوسرا چشمہ نکل آیا تو فرمایا یہ ٹھنڈا پینے کا میٹھا پانی ہے اس میں سے پیو چناچہ ایوب نے اس میں سے پیا تو ان کے پیٹ میں جو کچھ تکلیف تھی وہ دور ہوگئی۔
Top