Tafheem-ul-Quran - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
(ہم نے اُسے حکم دیا)اپنا پاوٴں زمین پر مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے اور پینے کے لیے۔ 43
سورة صٓ 43 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر پاؤں مارتے ہی ایک چشمہ نکل آیا جس کا پانی پینا اور اس میں غسل کرنا حضرت ایوب ؑ کے مرض کا علاج تھا۔ اغلب یہ ہے کہ حضرت ایوب ؑ کسی سخت جلدی مرض میں مبتلا تھے۔ بائیبل کا بیان بھی یہی ہے کہ سر سے پاؤں تک ان کا سارا جسم پھوڑوں سے بھر گیا تھا۔
Top