Tafseer-e-Madani - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور بلاشبہ ہم نے آزمائش میں ڈالا سلیمان کو (ایک اور موقع پر) اور ہم نے ڈال دیا ان کی کرسی پر ایک دھڑ پھر انہوں نے رجوع کیا (اپنے رب کے حضور)
47 حضرت سلیمان کی ایک آزمائش کا ذکر : سو اس ارشاد سے حضرت سلیمان کی آزمائش اور ان کی شان اوابیت وانابت و رجوع الی اللہ کا ایک اور نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جس فتنہ و آزمائش کا ذکر ہے اس سے اور آپ (علیہ السلام) کی کرسی پر دھڑ ڈال دینے سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں قرآن و سنت میں کہیں کوئی تصریح نہیں پائی جاتی۔ کتب تفسیر میں اس بارے میں جو کچھ روایات نقل کی گئی ہیں ان میں سے بعض تو بالکل ہی من گھڑت اسرائیلی روایات ہیں جو عصمت انبیاء کے مشہور و معروف اور مسلمہ عقیدے کے سراسرے خلاف ہیں۔ اور بقول علامہ ابن کثیر وغیرہ محققین بنی اسرائیل میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا تھا جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبی نہیں مانتے تھے۔ اور وہ ان سے خدا واسطے کا بیر رکھتے تھے۔ ایسے ہی لوگوں نے بہت سی من گھڑت روایتیں تصنیف کر کے آپ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کردیں اور مختلف وجوہ سے وہی روایات ہماری کتب تفسیر وغیرہ میں بھی آگئیں۔ اس لئے ایسی روایات کو تسلیم کرنے اور ان کو ان آیات کی تفسیر قرار دینے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کے بارے میں آپ (علیہ السلام) کے ایک رات میں اپنی سب بیویوں سے مجامعت کرنے اور مجاہد پیدا ہونے سے متعلق جو روایت آئی ہے وہ سند کے اعتبار سے اگرچہ صحیح روایت ہے مگر اس کے بارے میں اس بات کی کوئی تصریح اور دلیل نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس کو اس مقام کی تفسیر کے طور پر ارشاد فرمایا ہو۔ اور خود امام بخاری نے اس روایت کو اپنی کتاب میں جہاں " کتاب الْاَیْمان والُنّذُور " اور " کتاب الجہاد " وغیرہ میں مختلف مقامات پر ذکر فرمایا ہے وہاں آپ نے اسے اس آیت کریمہ کی تفسیر کے طور پر کہیں بھی بیان نہیں فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی یہ روایت اس آیت کی تفسیر نہیں ہے۔ امام رازی کا ایک قول اس مقام سے متعلق یہ ہے کہ حضرت سلیمٰن (علیہ السلام) ایک خاص بیماری کی وجہ سے اتنے کمزور اور لاغر ہوگئے تھے کہ گویا کہ ایک دھڑ رہ گیا تھا بغیر روح کے۔ پھر وہ دوبارہ ٹھیک ہوگئے۔ تفسیر مراغی وغیرہ میں اسی قول کو اختیار کیا گیا ہے۔ اور ایک اور قول اس ضمن میں بعض اہل علم کا یہ ہے کہ دشمنوں نے لگاتار حملے کر کے آنجناب کے ملک کا بڑا حصہ آپ (علیہ السلام) سے چھین کر اپنے قبضے میں کرلیا۔ جس سے آپ اپنے مرکز اور اپنے باقی ماندہ حصے میں بالکل ایسے بےبس ہو کر رہ گئے تھے جیسے کوئی دھڑ کرسی پر پڑا ہو۔ دونوں صورتوں میں آنجناب کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ پتہ نہیں یہ میری کس تقصیر و کوتاہی کا نتیجہ و انجام ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فوراً اپنی شان انابت و اوابیت کی بنا پر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف رجوع کیا۔ تو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنی شان کرم و عطا اور احسان و عنایت کے مطابق آنجناب کو مزید خاص عنایتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا۔ سو یہ دونوں قول بھی اگرچہ آیت کریمہ کے عموم میں داخل ہیں اور اس کی تفسیر بن سکتے ہیں لیکن سند کے اعتبار سے ان کا کوئی معتبر ثبوت موجود نہیں۔ اس لئے ان سے متعلق بھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لہذا سلامتی کا طریقہ وہی ہے جسے حضرات سلف اور محققین نے اختیار فرمایا کہ ۔ " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمَہُ الْقُرْآنُ " ۔ کے ضابطے کے مطابق اس کو مجمل اور مبہم ہی رہنے دیا جائے۔ اور صرف اتنا اعتقاد و یقین رکھا جائے کہ کوئی ایسی خاص ابتلا و آزمائش تھی جس سے آنجناب کو گزارا گیا اور آپ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اپنی شان انابت و اوابیت کی بنا پر اس میں پورے اترے۔ جس کے نتیجے میں آپ ﷺ کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے مزید افضال و عنایات سے نوازا گیا۔ آگے اس ابتلاء و آزمائش کی تعیین و تشخیص نہ ہمارے ذمے ہے اور نہ ہی ہمارے بس میں۔ ہم تو بس یہی کہتے اور مانتے ہیں کہ ۔ { کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا } ۔ اس طرح اصل مقصد بھی پورا ہوجائے گا کہ اصل چیز ہے رجوع وانابت الی اللہ کا درس۔ جس کو اپنانے اور ہمیشہ اپنا مقصد اور مطمح نظر بنانے کی ضرورت ہے۔ اور اس طرح ہم کتاب اللہ میں ظن وتخمین اور بےبنیاد رائے زنی اور قول علی اللہ کے خطر سے بھی بچ جائیں گے۔ ثقہ اور محتاط علمائے کرام نے اسی کو اپنایا ہے ۔ وکما قال بہ العلامہ ابن حزم الاندلسی ‘ والعلامہ جمال الدین القاسمی الدمشقی وغیرھم من اکا بر اھل العلم و الفضل ۔ باقی اس ضمن میں حضرت سلیمٰن کی انگوٹھی کے گم ہونے اور شیطان کے آپ (علیہ السلام) کے تخت پر قبضہ کرلینے وغیرہ کے جو قصے مشہور ہیں اور کئی کتابوں میں پائے جاتے ہیں وہ سب من گھڑت، بےبنیاد، سراپا خرافات، زنادقہ و ملاحدہ کی اختراعات اور دشمنان دین کے پھیلائے ہوئے جھوٹ کے پلندے ہیں۔ جیسا کہ محققین نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (روح، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، محاسن، مدارک اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف تسلیم و تفویض الی اللہ کا قول جو کہ اوپر بیان ہوا امن و سلامتی کا قول ہے ۔ وَہُوَ الاَحْوَطُ وَالْاَسَلَمٌ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی ۔ وَہُوَ اَعْلَمُ بِمُرَادِ کَلامِہ جَلَّ وَعَلَا ۔ اور ہمارے دور کے بعض اہل علم نے اسی قول کو اختیار کیا کہ ابتلا و آزمائش کے اس دور میں حضرت سلیمان کی حکومت سمٹ سمٹا کر مرکز تک محدود رہ گئی تھی۔ اور حالات نے انکو اس قدر بےبس اور غمزدہ بنادیا تھا کہ گویا صرف جسم رہ گیا تھا روح غائب ہوگئی تھی۔ سو ۔ { اَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہ جَسَداً } ۔ کے کلمات کریمہ سے یہی مراد ہے۔ اور یہ حضرت سلیمان کی اسی بےکسی اور بےبسی کی تصویر ہے ۔ واللہ اعلم ۔ بہرکیف اس کے باوجود حضرت سلیمان مایوس نہیں ہوئے بلکہ اس سے انکو اس کا احساس ہوا کہ یہ ان کی کسی تقصیر اور کوتاہی ہی کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے وہ فوراً اللہ کی طرف رجوع ہوئے اور توبہ و استغفار کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اور یہی صحیح اور درست طریقہ ہے اصلاح احوال کا کہ تقصیر و کوتاہی کی صورت میں انسان صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوجائے اور اس طرح وہ اپنے رب کی عنایات اور اس کی رحمتوں سے سرفراز و سرشار ہوجائے اور اس سے تلافیء ما فات بھی ہو سکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Top