Tafseer-e-Madani - Saad : 7
مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ
مَا سَمِعْنَا : ہم نے نہیں سنا بِھٰذَا : ایسی فِي : میں الْمِلَّةِ : مذہب الْاٰخِرَةِ ښ : پچھلا اِنْ : نہیں ھٰذَآ : یہ اِلَّا : مگر۔ محض اخْتِلَاقٌ : من گھڑت
یہ بات تو ہم نے پچھلے دین میں بھی نہیں سنی یہ تو محض ایک من گھڑت بات ہے
9 منکرین کا عقیدئہ توحید پر اچنبھا اور اس کا انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے عقیدئہ توحید پر تعجب اور اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو ہم نے پچھلے دین میں بھی نہیں سنی۔ جس پر ہمارے آباؤ و اجداد چلتے آئے ہیں۔ اس سے یا تو ان کی مراد وہی دین شرک اور بت پرستی ہے جس پر ان کے بڑے چل رہے تھے یا اس سے نصرانیت مراد ہے جو کہ نور اسلام کے طلوع اور آنحضرت ﷺ کی بعثت و تشریف آوری سے پہلے سب سے آخری سماوی دین تھا کہ اس میں بھی نصاریٰ کی تلبیس سے ایک کی بجائے تین خداؤں یعنی توحید کی بجائے تثلیث کا شرکیہ عقیدہ رواج پا چکا تھا۔ ورنہ اصل دین عیسوی بھی اسی طرح توحید کا قائل اور اس کا داعی و پیامبر تھا جس طرح کہ دین اسلام۔ اور حضرت نوح سے لیکر حضرت ابراہیم تک اور اس کے بعد کے تمام انبیائے کرام نے بھی اسی توحید اور دین حق کی دعوت دی۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل نے بیت اللہ کی تعمیر بھی اسی لیے کی تھی کہ وہ توحید کا مرکز ہو۔ اور انہوں نے اپنی اولاد کو بھی اس سرزمین میں اسی لیے بسایا تھا کہ وہ دین اسلام اور عقیدئہ توحید کی خدمت اور اس کی تبلیغ کریں۔ مگر قریش کے ان منکرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم تھا کہ یہ اس سب کے باوجود کہتے ہیں کہ ہم نے توحید کی یہ دعوت اپنے دین میں سنی ہی نہیں۔ بلکہ یہ ان صاحب کی طبعزاد اور من گھڑت ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Top