Tafheem-ul-Quran - Saad : 7
مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ
مَا سَمِعْنَا : ہم نے نہیں سنا بِھٰذَا : ایسی فِي : میں الْمِلَّةِ : مذہب الْاٰخِرَةِ ښ : پچھلا اِنْ : نہیں ھٰذَآ : یہ اِلَّا : مگر۔ محض اخْتِلَاقٌ : من گھڑت
یہ بات ہم نے زمانہٴ قریب کی مِلّت میں کسی سے نہیں سُنی۔ 9 یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات
سورة صٓ 9 یعنی قریب کے زمانے میں ہمارے اپنے بزرگ بھی گزرے ہیں، عیسائی اور یہودی بھی ہمارے ملک اور آس پاس کے ملکوں میں موجود ہیں، اور مجوسیوں سے ایران و عراق اور مشرقی عرب بھرا پڑا ہے۔ کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان بس ایک اللہ رب العالمین کو مانے اور دوسرے کسی کو نہ مانے۔ آخر ایک اکیلے خدا پر کون اکتفا کرتا ہے۔ اللہ کے پیاروں کو تو سب ہی مان رہے ہیں۔ ان کے آستانوں پر جا کر ماتھے رگڑ رہے ہیں۔ نذریں دے رہے ہیں۔ دعائیں مانگ رہے ہیں۔ کہیں سے اولاد ملتی ہے۔ کہیں سے رزق ملتا ہے۔ کسی آستانے پر جو مراد مانگو بر آتی ہے۔ ان کے تصرفات کو ایک دنیا مان رہی ہے اور ان سے فیض پانے والے بتا رہے ہیں کہ ان درباروں سے لوگوں کی کس کس طرح مشکل کشائی و حاجت روائی ہوتی ہے۔ اب اس شخص سے ہم یہ نرالی بات سن رہے ہیں، جو کبھی کسی سے نہ سنی تھی، کہ ان میں سے کسی کا بھی خدائی میں کوئی حصہ نہیں اور پوری کی پوری خدائی بس ایک اکیلے اللہ ہی کی ہے۔
Top