Urwatul-Wusqaa - Saad : 7
مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ
مَا سَمِعْنَا : ہم نے نہیں سنا بِھٰذَا : ایسی فِي : میں الْمِلَّةِ : مذہب الْاٰخِرَةِ ښ : پچھلا اِنْ : نہیں ھٰذَآ : یہ اِلَّا : مگر۔ محض اخْتِلَاقٌ : من گھڑت
اور یہ بات تو ہم نے پچھلے مذاہب میں بھی نہیں سنی ، ضرور یہ تو ایک گھڑی ہوئی بات ہے
اس نے ایک ایسی اسکیم لڑائی ہے جس کی گزشتہ جماعتوں میں مثال نہیں ملتی 7 : مطلب یہ ہے کہ اس کی یہ اسکیم جو اس نے سوچی ہے اس سے پہلے کسی کو بھی نہیں سوچھی آج تک اس طرح کی دعوت کسی نے پیش نہیں کی۔ کتنی جماعتیں گزر چکی ہیں لیکن ہم نے جو طریقہ اس نے اختیار کیا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کو کون نہیں مانتا اور اس کی ذات واحد کو کون واحد نہیں کہتا لیکن اللہ ایک ہے کہ یہ مطلب کیسے ہوگیا کہ کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہی نہ رہا کیا یہ سارے لوگ اس کے پیدا کردہ نہیں ہیں ؟ کیا کبھی اس کے پیارے اور محبوب بھی من دون اللہ کی زد میں آتے ہیں اور ان کو ” من دون “ کہا جاتا ہے یہ استھان کیا ہیں ؟ یہ ان بزرگوں کی یاد ہی تو ہیں جن کو اللہ نے اختیار دے رکھا تھا اور وہ اپنے پیارے بندوں کی بھی نہیں مانے گا تو آخر اور کس کی مانے گا جو کچھ محمد ﷺ بیان کر رہا ہے یہ تو ایک سراسر گھڑی ہوئی بات ہے جس کا نہ تو کوئی سر ہے اور نہ ہی پری ہے۔
Top