Madarik-ut-Tanzil - Saad : 15
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا انتظار کرتے ہیں
15: وَ مَایَنْظُرُ ھٰٓؤُ لَآ ئِ (نہیں یہ انتظار کر رہے) یعنی ھؤلاء کا مشارالیہ اہل مکہ ہیں۔ اِلَّا صَیْحَۃً وَّ احِدَۃً (مگر ایک زور کی چیخ کا) نفخہ اولی مراد ہے اور وہ بڑی گھبراہٹ کا دن ہے۔ مَّا لَھَا مِنْ فَوَاقٍ (جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی) قراءت : حمزہ اور علی نے ضمہ سے پڑھا فواقؔ یعنی وہ ایک سانس کی مقدار بھی نہ رکے گی۔ فواقؔ دراصل دودھ دوہنے والے کے پہلی مرتبہ تھنوں سے دودھ نکالنے اور دوسری مرتبہ نکالنے کا درمیانی وقفہ۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کا وقت آجائے گا تو اتنے وقت کی مقدار بھی توقف و تاخر نہ ہوگا۔ قول ابن عباس ؓ : اس کیلئے لوٹنا اور لوٹانا نہیں ہے۔ یہ افاق المریض سے ماخوذ ہے۔ جبکہ وہ صحت کی طرف لوٹ آئے۔ اور فواق الناقہؔ وہ وقفہ جس میں دودھ اپنے تھنوں میں واپس لوٹ آئے۔ مراد یہ ہے کہ بس وہ تو ایک پھونک ہے۔ نہ دوسرا سانس اور نہ سانس کا لوٹانا۔
Top