Tafseer-e-Majidi - Saad : 2
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ
بَلِ : بلکہ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) فِيْ عِزَّةٍ : گھمنڈ میں وَّشِقَاقٍ : اور مخالفت
اصل یہ ہے کہ (یہ) کافر ہی تعصب ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں،3۔
3۔ (اور اس تعصب وعناد کا وبال بھی ایک روز ان پر پڑے گا) یہاں یہ بتادیا کہ مخالفت حق کا سبب کوئی اشتباہ عقلی ہرگز نہی، محض ان لوگوں کی ضد، ہٹ دھرمی اور نخوت پسندی ہے۔ (آیت) ” عزۃ وشقاق “۔ دونوں کا تنوین نکرہ کے ساتھ آنا ان صفات کی شدت کے اظہار کے لیے ہے۔ یعنی یہ لوگ پرلے سرے کی ہٹ دھرمی سے کام لے رہے ہیں۔ والتنکیر فی عزۃ وشقاق لدلالۃ علی شد تھا (کشاف)
Top