Ruh-ul-Quran - Saad : 2
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ
بَلِ : بلکہ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) فِيْ عِزَّةٍ : گھمنڈ میں وَّشِقَاقٍ : اور مخالفت
بلکہ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کیا ہے وہی سخت تکبر اور مخاصمت میں مبتلا ہیں
بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ ۔ (صٓ: 2) (بلکہ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کیا ہے وہی سخت تکبر اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ ) قرآن کی مخالفت کا اصل سبب پیشِ نظر آیت کریمہ اوپر کی بات کی تائید کررہی ہے۔ یعنی قرآن کریم جو نصیحت اور یاددہانیوں سے معمور ہے اس سے اگر لوگ نصیحت حاصل نہیں کررہے اور اسے ماننے سے انکار کررہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم کی تذکیر میں کوئی کمی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا انکار کرنے والے تکبر اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ بڑی سے بڑی نصیحت بھی اس شخص پر کوئی اثر نہیں کرتی جس کی انانیت اور ہٹ دھرمی اس کی پوری شخصیت کا احاطہ کرچکی ہو۔ آدمی کی ذات کا خول اتنا شدید ہوتا ہے کہ عموماً نصیحت اس میں راستہ بنانے سے معذور رہتی ہے۔
Top