Tafseer-e-Baghwi - Saad : 2
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ
بَلِ : بلکہ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) فِيْ عِزَّةٍ : گھمنڈ میں وَّشِقَاقٍ : اور مخالفت
مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں
2، بل الذین کفروا، قتادہ کا قول ہے کہ بل اس جگہ اعراض کے لیے نہیں ہے بلکہ ابتدائیہ ہے اور یہ جملہ قسم کا جواب ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ آیا ہے، ق والقرآن المجید بل عجبوا، بعض نے کہا کہ یہاں تقدیم وتا خیر ہے تقدیری عبارت یہ ہوگی۔ ، بل الذین کفروا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، فی عزۃ وشقاق، قرآن ذکروالا ہے اور نصیحت والا ہے۔ اخفش کا قول ہے جس مضمون کے لیے قسم کے ساتھ کلام کیا گیا ہے، ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب، اور دوسری جگہ ذکر کیا گیا۔ ، تاللہ ان کنا، اور ایک اور جگہ فرمایا، والسماء والطارق ان کل نفس ، بعض نے کہا کہ جواب قسم یہ ان ھذالرزقنا، ہے۔ کسائی کا قول ہے کہ جواب قسم یہ ہے کہ ، ان ذلک لحق تخاصم اھل النار، یہ بعید ہے کیوں کہ اس قسم کے درمیان خلل پیدا ہوجائے گا۔ جواب بہت سارے قصص اور اخبار کثیرہ پر مبنی ہے۔ قتیبی کا قول ہے بل ایک کلام کے تدارک اور دوسرے کلام کی نفی کے لیے ہے کیوں کہ اللہ نے ، ص والقرآن ذی الذ کر، کی قسم کھاکر فرمایا کہ جو کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں اور حق سے روگردانی محض تکبر کی وجہ سے کررہے ہیں ۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔
Top