Tafheem-ul-Quran - Saad : 2
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ
بَلِ : بلکہ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) فِيْ عِزَّةٍ : گھمنڈ میں وَّشِقَاقٍ : اور مخالفت
بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے، سخت تکبُّر اور ضِد میں مبتلا ہیں۔ 3
سورة صٓ 3 اگر ص کی وہ تاویل قبول کی جائے جو ابن عباس اور ضحاک نے بیان کی ہے تو اس جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ " قسم ہے اس قرآن بزرگ، یا اس نصیحت سے لبریز قرآن کی کہ محمد ﷺ سچی بات پیش کر رہے ہیں، مگر جو لوگ انکار پر جمے ہوئے ہیں وہ دراصل ضد اور تکبر میں مبتلا ہیں۔ " اور اگر ص کو ان حروف مقطعات میں سے سمجھا جائے جن کا مفہوم متعین نہیں کیا جاسکتا، تو پھر قسم کا جواب محذوف ہے جس پر " بلکہ " اور اس کے بعد کا فقرہ خود روشنی ڈالتا ہے۔ یعنی پوری عبارت پھر یوں ہوگی کہ " ان منکرین کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جو دین ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اس میں کوئی خلل ہے۔ یا محمد ﷺ نے ان کے سامنے اظہار حق میں کوئی کوتاہی کی ہے، بلکہ اس کی وجہ صرف ان کی جھوٹی شیخی، ان کی جاہلانہ نحوست اور ان کی ہٹ دھرمی ہے، اور اس پر یہ نصیحت بھرا قرآن شاہد ہے جسے دیکھ کر ہر غیر متعصب آدمی تسلیم کرے گا کہ اس میں فہمائش کا حق پوری طرح ادا کردیا گیا ہے "
Top