Tafseer-e-Usmani - Saad : 2
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ
بَلِ : بلکہ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) فِيْ عِزَّةٍ : گھمنڈ میں وَّشِقَاقٍ : اور مخالفت
بلکہ جو لوگ منکر ہیں غرور میں ہیں اور مقابلہ میں3
3  یعنی یہ عظیم الشان، عالی مرتبہ قرآن (جو عمدہ نصیحتوں سے پر، اور نہایت موثر طرز میں لوگوں کو ہدایت و معرفت کی باتیں سمجھانے والا ہے) با آواز بلند شہادت دے رہا ہے کہ جو لوگ قرآنی صداقت اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ قرآن کی تعلیم و تفہیم میں کچھ قصور ہے یا حضور ﷺ پر نور اس کی تبلیغ و تبیین میں معاذ اللہ مقصر ہیں۔ بلکہ انکار و انحراف کا اصلی سبب یہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹی شیخی، جاہلانہ غرور و نخوت اور معاندانہ مخالفت کے جذبات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ذرا اس دلدل سے نکلیں تو حق و صداقت کی صاف سڑک نظر آئے۔
Top