Anwar-ul-Bayan - Saad : 2
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ
بَلِ : بلکہ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) فِيْ عِزَّةٍ : گھمنڈ میں وَّشِقَاقٍ : اور مخالفت
مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں
(38:2) بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق : بل حرف اضراب ہے۔ عزۃ۔ عزت ۔ غلبہ۔ زور۔ بزرگی۔ اقبال۔ عز یعز کا مصدر ہے بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے۔ کبھی عزت کے ذریعہ مدح کیا جاتی ہے جیسے رب العزۃ (37:180) صاحب عزت و قدرت یا فان العزۃ للّٰۃ جمیعا (4:139) سو عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کی ہے کبھی اس کے ذریعہ مذمت بھی ہوتی ہے مثلاً آیہ ہذا۔ جہاں عزت بطور گھمنڈ و تکبر مراد ہے۔ اسی طرح ملاحظہ ہو۔ واذا قیل لہ اتق اللّٰہ اخذتہ العزۃ بالاثم (2:206) اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے نخوت گناہ پر (اور زیادہ) آمادہ کردیتی ہے۔ شقاق۔ ضد۔ مخالفت۔ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ قسم ہے قرآن نصیحت والے کی (بات یوں نہیں جیسا یہ کفار کہہ رہے ہیں) بلکہ (خود) یہ کافر تعصب اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔
Top