Anwar-ul-Bayan - Saad : 2
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ
بَلِ : بلکہ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) فِيْ عِزَّةٍ : گھمنڈ میں وَّشِقَاقٍ : اور مخالفت
بلکہ جن لوگوں نے کفر کیا تعصب میں اور مخالفت میں ہیں،
(بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ خود ہی تعصب میں اور حق کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں) (کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ ) (ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہم نے ہلاک کردیا) (فَنَادَوْا وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ) سو ان لوگوں نے پکارا یعنی جب عذاب آیا تو بلند آواز سے توبہ کرنے لگے تاکہ عذاب سے نجات مل جائے اور وہ وقت چھٹکارہ کا نہ تھا (کیونکہ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ ) فائدہ : مصاحف قرآنیہ میں (وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ) لکھا ہوا ہے اور محققین کے نزدیک اسی طرح صحیح ہے قدیم اور جدید مصاحف میں (لاَتَ بقطع التاء) لکھا ہے جو تواتر سے ثابت ہے۔ 1 ؂ لیکن حضرت ابو عبید قاسم بن سلام کا ارشاد ہے کہ (لا تحین وصل التاء) کے ساتھ رسم قرآنی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مصحف عثمانی میں، میں نے خود موصولاً لکھا ہوا دیکھا ہے لیکن امام شاطبی ؓ نے قصیدہ رائیہ میں فرمایا ہے (ابو عبیدٍ عزاولا تحین الامام والکل فیہ اعظم النکرا) (یعنی ابو عبید نے ” ولا تحین “ کو مصحف عثمانی کی طرف منسوب کیا ہے اور تمام علماء نے اس بارے میں بڑی نکیر کی ہے) حضرت ابوعبید بھی رسم قرآنی کے امام ہیں لیکن چونکہ یہ نقل خبر واحد کے درجہ میں ہے جس کا تواتر ثابت نہیں ہوا اس لیے ائمہ کرام نے اس کو تسلیم نہیں کیا، حضرت امام جزری نے بھی نام لیے بغیر اپنے مقدمہ میں حضرت ابو عبید کا قول نقل کیا ہے اور آخر میں ووھلا فرمایا یعنی یہ قول ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ لات حین کے مذکورہ وصل و قطع کے اختلاف کی وجہ سے وقف اور ابتداء میں بھی اختلاف ہوگیا، چناچہ جملہ علماء و قراء فرماتے ہیں کہ ” لا “ پر وقف کرکے تحین سے ابتداء کرنا درست نہیں ہے کیونکہ لا پر تا زائدہ آتی ہے اور دونوں کلمہ واحدہ کے حکم میں ہیں لہٰذا وقف کریں تو لات پر کریں 1 ؂ اور المناص کا معنی ہے نجات کی جگہ اور بچنا، چوکنا، کہا جاتا ہے ناصہ، ینوصہ جب کوئی چیز فوت ہوجائے اور فراء کہتے ہیں النوص کا معنی ہے پیچھے رہ جانا اور حضرت مجاہد (رح) نے اس کی تفسیر فرار کے ساتھ کی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ (ولات ” ھی لا “ المشبھۃ بلیس عند سیبویۃ زیدت علیھا تاء التأنیث لتا کید معناھا وھو النفی لان زیادۃ البناء تدل علی زیادۃ المعنی أولان التاء تکون للمبالغۃ فی علامۃ أو لتاکید شبھھا بلیس بجعلھا علی ثلاثۃ أحرف ساکنۃ الوسط۔ (روح المعانی ص 163: ج 23) والمناص المنجا والفوت یقال ناصہٗ ینوصہ، اذا فاتہ وقال الفراء النوص التأخرو عن مجاھد تفسیرہ بالفرار وکذا روی عن ابن عباس۔ (روح المعانی ص 165: ج 23) ” سیبویہ کے نزدیک ” لات “ کا لامشبہ بلیس ہے اور اس کے ساتھ تائے تانیث معنی نفی کی تاکید کے لیے بڑھائی گئی ہے کیونکہ بناء کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے یا تاء اس لیے بڑھائی گئی کہ وہ مبالغہ کے لیے ہے جیسے علامۃ کی یا تاء لیس کے ساتھ مشابہت کی تاکید کے لیے بڑھائی گئی ہے تاء نے ” لا “ کے تین حرف بنا دئیے جن کا درمیان والا ساکن ہے اور لیس بھی اسی طرح ہے۔ “ لیکن ابو عبید (رح) اپنے اختیار کردہ رسم الحظ کی بناء پر کہتے ہیں کہ لا پر وقف کرکے تحین سے ابتداء کرسکتے ہیں۔ ملا علی قاری ؓ فرماتے ہیں کہ یہ قرأت شاذ ہے کیونکہ مبنی اور معنی کے اعتبار سے قواعد عربیہ کے خلاف ہے۔ اگر ضرورت کی بناء پر لات پر حسب مذہب جمہور قراء عمل کیا جائے تو تا کو ہا سے بدل کر وقف کریں یا تا کو ت ہی رہنے دیں ؟ اس کے بارے میں ملا علی قاری ؓ فرماتے ہیں کہ کسائی وقف بالھاء کرتے ہیں اور باقی قراء کرام رسم کے تابع کرتے ہوئے وقف بالتا کرتے ہیں۔ (کیونکہ تا لمبی لکھی ہوئی ہے۔ )
Top