تفسیرِ ماجدی

Tafseer-e-Majidi · 4. An-Nisaa · Ayah 41

  1. فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ﴿41﴾

    1. فَكَيْفَپھر کیسا۔ کیا
    2. اِذَاجب
    3. جِئْنَاہم بلائیں گے
    4. مِنْسے
    5. كُلِّ اُمَّةٍہر امت
    6. بِشَهِيْدٍایک گواہ
    7. وَّجِئْنَااور بلائیں گے
    8. بِكَآپ کو
    9. عَلٰيپر
    10. هٰٓؤُلَآءِان کے
    11. شَهِيْدًاگواہ
Translation · Tafseer-e-Majidi
سو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک ایک گواہ حاضر کریں گے،136 ۔ اور ان لوگوں پر آپ کو بہ طور گواہ پیش کریں گے،137 ۔
Tafseer · Tafseer-e-Majidi
136 ۔ (قیامت کے دن، اس امت سے متعلق اظہار دینے) یہ گواہ ہر امت کے مقابل اس امت کے رسول ہوں گے۔ جو اس کی شہادت دیں گے کہ وہ احکام کی پوری پوری تبلیغ کر آئے تھے۔ 137 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” ھولآء “۔ (ان لوگوں) کا اشارہ کس جانب ہے ؟ بہ ظاہر وہ لوگ مراد معلوم ہوتے ہیں۔ جو قرآن کے بر اہ راست یا بالواسطہ مخاطب تھے، اور جن سے رسول اللہ ﷺ کا سابقہ تھا۔ ای علی امتک (ابن جریر) یعنی قومہ المخاطبین بالقران (کبیر) دوسری تفسیر یہ ہے کہ اشارہ ان گواہوں کی جانب ہے، یعنی ان گواہوں کے صدق بیان پر گواہ ہوکر، نشھد علی صدق ھولآء الشھداء لعلمک بعقائدھم (بیضاوی) بہرصورت جب رسول اللہ ﷺ اس آیت پر پہنچے تھے تو اپنی ذمہ داری کے احساس اور فرط خشیت سے دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ آنسو چشم مبارک سے ظاہر ہوجاتے تھے، کان النبی ﷺ اذا اتی علیھا فاضت عیناہ (ابن جریر) جن بیدردوں نے قرآن کو کلام محمد ٹھیرایا، وہ غور کریں، اپنے گھڑے ہوئے کلام سے بھی انسان کے آنسو جاری ہوسکتے ہیں ؟
Tafseer-e-Majidi - 4 : 41